یمن میں جاری کشیدگی کے دوران یمنی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے کو نشانہ بنایا تاکہ ایک ایرانی طیارے کو لینڈنگ سے روکا جا سکے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اس کے مخالف فریقوں کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یمنی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایرانی طیارے کو صنعا ایئرپورٹ پر اترنے سے روکنا تھا۔ تاہم حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی فوری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ یمن کا دارالحکومت صنعا اس وقت ایران سے منسلک حوثی گروپ کے کنٹرول میں ہے، جبکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت، جسے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے، جنوبی شہر عدن سے اپنے امور چلاتی ہے۔
صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈہ گزشتہ کئی برسوں سے یمن کے تنازع کا اہم مرکز رہا ہے اور ماضی میں بھی مختلف فضائی حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے، جس کے باعث اس کی سرگرمیاں متعدد مرتبہ متاثر ہو چکی ہیں۔
