ایران کے حملے میں بچ جانے والے امریکی فوجیوں نے اپنی فوجی قیادت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں امریکی فوجی اڈے کی سکیورٹی سے متعلق خطرات سے اعلیٰ حکام پہلے ہی آگاہ تھے، لیکن ان انتباہات کو نظر انداز کیا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق کویت میں ایرانی حملے سے محفوظ رہنے والے متعدد امریکی فوجیوں نے بتایا کہ فوجی قیادت کو معلوم تھا کہ متعلقہ اڈا مناسب دفاعی نظام سے محروم اور غیر محفوظ ہے، اس کے باوجود اہلکاروں کو وہاں تعینات رکھا گیا۔
فوجیوں کے مطابق حملے کے دوران اور اس کے بعد سینئر کمانڈرز نے امدادی سرگرمیوں کی قیادت کرنے کے بجائے اپنی جان بچانے کو ترجیح دی اور عمارت چھوڑ کر چلے گئے، جبکہ زخمی اہلکاروں کو بروقت طبی امداد اور انخلا کی سہولت بھی مؤثر انداز میں فراہم نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم مارچ کو کویت میں ہونے والے ایرانی حملے میں 6 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 30 زخمی ہوئے تھے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس واقعے پر ہونے والی داخلی تحقیقات میں کسی فرد کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی پینٹاگون میں کسی افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش کی گئی۔
اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے ہلاک اور زخمی امریکی فوجیوں کے اہل خانہ نے پینٹاگون کے مؤقف پر شدید مایوسی کا اظہار کیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
