Table of Contents
سیئول / پیونگ یانگ: شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے ملک کی بحری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک بڑے پانچ سالہ منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اگلے پانچ سالوں میں ہر سال 5,000 میٹرک ٹن وزنی دو بڑے جنگی جہاز تیار کرنے چاہئیں۔
نئے کثیر المقاصد ڈسٹرائر ‘چو ہیون’ کی تعیناتی
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا (KCNA) کے مطابق، رہنما کم جونگ ان نے نمفو بندرگاہ پر نئے کثیر المقاصد ڈسٹرائر ‘چو ہیون’ (Choe Hyon) کی بحریہ میں باقاعدہ تعیناتی کی تقریب میں شرکت کی۔ رپورٹ کے مطابق، اس جدید جنگی جہاز نے گزشتہ 14 مہینوں کے دوران اپنے تمام فوجی آپریشنل ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کیے ہیں، جس کے بعد اسے اب باقاعدہ مشنز کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
10 ہزار ٹن کے اسٹریٹجک جنگی جہازوں کا ہدف
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا جلد ہی 10,000 ٹن کے بڑے اسٹریٹجک جنگی جہازوں کے ساتھ ساتھ ‘کانگ کون’ نامی ایک اور 5,000 ٹن کا ڈسٹرائر بھی بحری بیڑے میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ ‘کانگ کون’ کو گزشتہ سال لانچنگ کی تقریب کے دوران جزوی طور پر ڈوبنے کے بعد دوبارہ مرمت کیا گیا ہے۔
"ہماری بحری طاقت اب تصور سے باہر ہوگی”
کم جونگ ان نے اعتراف کیا کہ ماضی میں بحریہ شمالی کوریا کی فوجی قوتوں کا سب سے کمزور حصہ رہی ہے، تاہم اب اس کی صلاحیتوں میں ایسی تبدیلی آ رہی ہے جو "کچھ ناقابل یقین حد تک تصور سے باہر ہو جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ بحریہ کے دائرہ کار اور کردار میں بڑی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں اور بحریہ کا نیوکلیئرائزیشن (Nuclearization) تیزی سے اپنے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے، جو ملک کے نیوکلیئر ڈیٹرنس (ایٹمی دفاع) کو ناقابل تسخیر بنائے گا۔
نئے بحری اڈوں کی تعمیر کا فیصلہ
شمالی کوریا کے سربراہ نے نئے اور جدید بحری اڈوں کی تعمیر کو ایک فوری اور ناگزیر ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکمراں ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے عہدیداروں نے حالیہ اہم اجلاس میں نئے بحری اڈوں کی تعمیر کے تزویراتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے تاکہ نئی بحری قوت کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
