Table of Contents
واشنگٹن، امریکی سینیٹ نے روس اور ایران کے خلاف عائد امریکی پابندیوں کو مزید سخت کرنے کے مقصد سے پیش کیے گئے ایک بل کی منظوری دے دی ہے۔
روسی خبر رساں ادارے TASS کے مطابق امریکی سینیٹ کے اجلاس میں قانون سازی کے حق میں ووٹنگ ہوئی، جس کے بعد بل کو مزید کارروائی کے لیے ایوان نمائندگان بھیج دیا گیا ہے۔
بل میں روس اور ایران پر مزید دباؤ کی تجویز
مجوزہ قانون سازی کا بنیادی مقصد روس اور ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے موجودہ نظام کو مزید سخت کرنا ہے۔ بل کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن کی جانب سے دونوں ممالک کے خلاف اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
سینیٹ میں حتمی ووٹنگ سے قبل ارکان نے ایک ترمیم بھی مسترد کردی جس کے ذریعے امریکی صدر کے اس اختیار کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ روسی تیل یا گیس درآمد کرنے والے تیسرے ممالک یا فریقوں پر محصولات عائد کر سکیں۔
اس ترمیم کے مسترد ہونے کے بعد صدر کے اختیارات سے متعلق موجودہ شق برقرار رہی۔
بل اب ایوان نمائندگان میں جائے گا
سینیٹ سے منظوری کے بعد قانون سازی اب امریکی ایوان نمائندگان میں غور کے لیے پیش کی جائے گی۔ وہاں بل پر مزید بحث اور ووٹنگ ہوگی، جس کے بعد ہی اس کے حتمی قانونی مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔
یعنی سینیٹ سے منظوری ملنے کے باوجود یہ قانون سازی ابھی مکمل طور پر نافذ العمل قانون نہیں بنی۔
موسم گرما کی تعطیلات سے قبل اہم ووٹنگ
امریکی سینیٹرز نے یہ ووٹنگ واشنگٹن سے پانچ ہفتوں کی موسم گرما کی تعطیلات کے لیے روانہ ہونے سے کچھ ہی دیر قبل کی۔
سینیٹ کی جانب سے بل کی منظوری روس اور ایران کے خلاف امریکی پالیسی میں اقتصادی اور سفارتی دباؤ برقرار رکھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔
اب اس قانون سازی کا اگلا مرحلہ ایوان نمائندگان میں ہوگا، جہاں ارکان اس کی مختلف شقوں کا جائزہ لیں گے اور اس کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
