Table of Contents
تہران: ایران کی پارلیمنٹ میں این پی ٹی سے دستبرداری کا بل جمع کرا دیا گیا ہے۔
این پی ٹی جوہری عدم پھیلاؤ کا عالمی معاہدہ ہے۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی نے بل کی تصدیق کی۔
انہوں نے بتایا کہ بل پارلیمنٹ کے پریذائیڈنگ بورڈ کو دیا گیا ہے۔
یہ بل تین فوری کارروائیوں کے تحت پیش کیا گیا ہے۔
اب بل کو پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس میں لانے کی اجازت درکار ہے۔
این پی ٹی سے نکلنے کا مطالبہ
حسین علی حاجی دلیگانی نے موجودہ حالات پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو این پی ٹی میں رہنے سے فائدہ نہیں ہو رہا۔
ان کے مطابق ایران کو حالیہ عرصے میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
انہوں نے ایران پر ہونے والی کارروائیوں کا بھی حوالہ دیا۔
دلیگانی نے کہا کہ مزید نقصان سے بچنے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق ایران کو اپنے معاملات خود چلانے چاہئیں۔
پارلیمنٹ میں بحث کا امکان
بل ابھی پارلیمانی عمل کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔
اس پر بحث کے لیے اسپیکر کی اجازت ضروری ہے۔
اس کے بعد بل کو کھلے اجلاس میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
پارلیمنٹ میں اس پر مزید کارروائی ہوگی۔
اس لیے ایران کی این پی ٹی سے فوری دستبرداری نہیں ہوئی۔
بل کی منظوری بھی ابھی باقی ہے۔
آئی اے ای اے کے فیصلے کا حوالہ
ایرانی رکن پارلیمنٹ نے آئی اے ای اے کا بھی حوالہ دیا۔
ان کے مطابق آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے ایران کا معاملہ اقوام متحدہ کو بھیجا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو مزید نقصان سے بچنا چاہیے۔
اسی تناظر میں این پی ٹی سے دستبرداری کی تجویز سامنے آئی ہے۔
ایران کا ممکنہ اگلا قدم
این پی ٹی سے دستبرداری کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
پارلیمنٹ پہلے بل پر کارروائی کرے گی۔
اس کے بعد اس کی منظوری یا مسترد ہونے کا عمل ہوگا۔
تازہ پیش رفت ایران کے جوہری پروگرام پر بڑھتے دباؤ کے درمیان سامنے آئی ہے۔
ایرانی ارکان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں این پی ٹی کی رکنیت پر نظرثانی ضروری ہے۔
