ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے متعدد بڑے عسکری دعوے کیے ہیں۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی بحرِ ہند میں موجود ایک امریکی بحری جہاز کو کروز میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین میں امریکی ڈرونز کے ایک ڈپو پر حملہ کیا گیا، جبکہ بحرین میں قائم ایک مصنوعی ذہانت (AI) سینٹر کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کے ساتھ امریکا کو مزید سخت انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر محسن رضاعی نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران پر مزید حملے کیے تو جنگ کا رخ مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔
محسن رضاعی نے کہا کہ ایران اب صرف دفاعی حکمت عملی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ضرورت پڑنے پر جارحانہ کارروائی بھی اختیار کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر آئندہ چند روز تک امریکی حملے جاری رہے تو ایران مکمل جارحانہ آپریشن شروع کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
ایرانی حکام کے ان بیانات سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان الزامات یا حملوں کے دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔
علاقائی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری مسلسل کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دے رہی ہے۔

