اسلام آباد میں پاکستان کی زیرِ صدارت شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک کے بارڈر سروسز سربراہان کا 12واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں سرحدی سلامتی، مشترکہ آپریشنز اور مستقبل کے سیکیورٹی تعاون سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں پاکستان، چین، روس، بھارت، ایران، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیررازم اسٹرکچر (RATS) کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران رکن ممالک نے مشترکہ بارڈر آپریشن “سولیڈیرٹی-2025” کے نتائج کی متفقہ طور پر منظوری دی اور آئندہ “سولیڈیرٹی-2026” کے انعقاد اور تیاری کے جامع منصوبے کی بھی توثیق کی۔
شرکاء نے بین الاقوامی سرحدوں کو درپیش موجودہ صورتحال، ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز اور مستقبل کے خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جبکہ سرحدی سلامتی کے شعبے میں معلومات کے تبادلے اور باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔
اجلاس میں ایس سی او بارڈر سروسز کے ماہرین کے گروپ کے 2027 ورک پلان کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ تاجکستان کی جانب سے مشترکہ بارڈر آپریشن “سولیڈیرٹی-2027” کی میزبانی کی پیشکش کی بھرپور حمایت کی گئی۔
اس موقع پر بارڈر سروسز سربراہان کے آئندہ اجلاس کے وقت اور مقام سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
رکن ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرحدی سلامتی کو درپیش مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی، بروقت معلومات کے تبادلے اور قریبی تعاون کو مزید فروغ دینا ناگزیر ہے، جس سے نہ صرف سرحدی تحفظ بلکہ رکن ممالک کے درمیان اعتماد اور علاقائی استحکام بھی مضبوط ہوگا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس خوشگوار، تعمیری اور باہمی تعاون کے ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔

