غزہ شہر/قاہرہ: غزہ پٹی پر اسرائیلی افواج کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں اور فضائی و زمینی حملوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، جہاں تازہ ترین کارروائیوں میں 3 معصوم بچوں سمیت مزید 10 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے النصر میں ایک رہائشی عمارت پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید ہو گئے۔ ملوک رول کے مطابق شہداء میں ماں، باپ اور ان کے 3 بچے شامل ہیں، جبکہ خاندان کا صرف ایک بچہ عمارت سے باہر ہونے کی وجہ سے اس ہولناک حملے میں محفوظ رہا۔ اس کے علاوہ، غزہ کے علاقے فروسیہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید ہوا، جبکہ خان یونس کے اضلاع میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے رہائشی عمارتوں کو بارود سے اڑانے اور مسمار کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید 19 شہداء کی لاشیں مختلف ہسپتالوں میں لائی گئی ہیں۔ وزارتِ صحت نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر گہرا تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اکتوبر 2025 میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیل کی یکطرفہ کارروائیوں میں 1 ہزار 144 فلسطینی شہید اور 3 ہزار 703 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری کی خاموشی اور جنگ بندی کے معاہدوں کی سنگین پامالیوں کے باعث اب تک غزہ میں مجموعی طور پر فلسطینی شہداء کی تعداد 73 ہزار 269 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 73 bin 811 سے تجاوز کر گئی ہے، جو خطے میں اب تک کے بدترین انسانی المیے کو ظاہر کرتی ہے۔
