بھارت میں آپریشن سندور سے متعلق ایک نئی سیاسی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتوں اور سابق فوجی افسران نے مودی حکومت پر فوجیوں کی ہلاکتوں سے متعلق حقائق چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
بھارتی اخبار دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق ناقدین کا دعویٰ ہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران ہونے والے جانی نقصانات کی تفصیلات طویل عرصے تک منظرِ عام پر نہیں آنے دیں، جس پر اپوزیشن نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے کہا کہ فوجی جوانوں کی قربانیوں سے متعلق حقائق چھپانا قابلِ افسوس ہے اور حکومت کو اس پر جوابدہ ہونا چاہیے۔
رپورٹ میں ریٹائرڈ بھارتی فضائیہ کے افسر ونگ کمانڈر (ر) انوما آچاریہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حکومت نے سیاسی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے فوجی اہلکاروں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
اسی طرح سابق بھارتی فوجی افسر کرنل (ر) روہت چوہدری نے الزام عائد کیا کہ حکمران جماعت فوج کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے وضاحت، معافی اور سیاسی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
معروف بھارتی صحافی سوجیت نائر نے بھی اپنے تبصرے میں کہا کہ اگر فوجیوں کی ہلاکتوں سے متعلق معلومات دانستہ طور پر روکی گئیں تو یہ عوامی اعتماد کے لیے سنگین مسئلہ ہے۔
تاہم، اس معاملے پر بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات کی تفصیلی سرکاری تردید یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ان دعوؤں کو اپوزیشن، ناقدین اور میڈیا رپورٹس سے منسوب کر کے ہی دیکھا جانا چاہیے۔
