Jerusalem میں یروشلم ڈے کے موقع پر ہونے والے سالانہ مارچ کے دوران اسرائیلی قوم پرست گروہوں کی جانب سے شدید اشتعال انگیز نعرے اور پرتشدد رویے سامنے آئے ہیں، جس سے شہر میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مارچ کرنے والوں نے "عرب مردہ باد”، "تمہارے دیہات جل جائیں” اور "غزہ قبرستان ہے” جیسے نعرے لگائے اور فلسطینی علاقوں میں داخل ہو کر اشتعال انگیزی کی۔
عینی شاہدین کے مطابق مارچ کے دوران Old City Muslim Quarter میں فلسطینی دکانیں بند کر دی گئیں جبکہ بعض مقامات پر مارچ کرنے والوں اور مقامی فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جس پر پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔
مارچ میں اسرائیلی حکومت کے بعض وزرا بھی شریک ہوئے، جبکہ سیکیورٹی اداروں کی نگرانی میں یہ ریلی یروشلم کے حساس علاقوں سے گزری۔
بعد ازاں Al-Aqsa Mosque compound کے قریب اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر کی جانب سے پرچم لہرانے کے واقعے نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔
رپورٹس کے مطابق بعض شرکا نے فلسطینی آبادی کے بارے میں سخت زبان استعمال کی اور علاقے میں اپنی موجودگی کو “حاکمیت” کے اظہار کے طور پر پیش کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعات نہ صرف یروشلم میں موجودہ کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں بلکہ اسرائیل فلسطین تنازع کے سیاسی اور مذہبی پہلوؤں کو مزید حساس بنا رہے ہیں۔
