مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران چھ عرب ممالک نے اقوام متحدہ کو مشترکہ خط ارسال کرتے ہوئے ایران سے آبنائے ہرمز پر عائد کیے گئے یک طرفہ قوانین اور انتظامی دعوے واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ خط United Nations کے سیکریٹری جنرل کو Saudi Arabia، United Arab Emirates، Qatar، Kuwait، Bahrain اور Jordan کی جانب سے ارسال کیا گیا۔
عرب ممالک نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی بحری گزرگاہوں پر یک طرفہ قوانین نافذ کرنے یا عالمی تجارت کو متاثر کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ خط میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارتی راستہ ہے جسے عالمی قوانین کے مطابق کھلا اور محفوظ رکھا جانا ضروری ہے۔
عرب ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنے انتظامی دعووں سے فوری دستبردار ہو، بحری راستے کو غیر مشروط طور پر بحال کرے اور حالیہ صورتحال کے باعث ہونے والے معاشی نقصانات کا معاوضہ ادا کرے۔
خط میں مجموعی طور پر چھ اہم مطالبات شامل کیے گئے ہیں جن میں عالمی بحری آزادی کے احترام، تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور علاقائی استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے معاملے پر عرب ممالک کا مشترکہ سفارتی اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی تیل سپلائی اسی بحری راستے سے گزرتی ہے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
