سعودی عرب نے مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کارروائیوں اور اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور مقدس مقامات کے احترام کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی فوج کے دھاوے اور اسرائیلی پرچم لہرانے جیسے اقدامات نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی مزید بڑھا رہے ہیں۔
بیان کے مطابق یروشلم اور اس کے مقدسات کی تاریخی اور قانونی حیثیت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اس حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔ سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ القدس الشریف کی حیثیت متاثر کرنے والے تمام اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
سعودی عرب نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بااثر عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسرائیل کو ایسے اقدامات سے روکنے کیلئے فوری اور مؤثر کردار ادا کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی قابض افواج کی مسلسل اشتعال انگیز کارروائیاں خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے عالمی سطح پر ان اقدامات کا راستہ روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مسجد اقصیٰ سے متعلق کشیدگی مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ اسلامی ممالک میں بھی اس معاملے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
