یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا ایک بڑا معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے یمنی تنازع کے دوران اب تک کا سب سے بڑا قیدی تبادلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت عمان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران سامنے آئی جہاں دونوں فریقین نے تقریباً 1728 قیدیوں اور زیر حراست افراد کی رہائی پر اتفاق کیا۔
یمنی حکومتی وفد کے سربراہ Yahya Mohammed Kazman نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ ہزاروں یمنی خاندانوں کی مشکلات کم کرنے کی جانب ایک اہم انسانی قدم ہے۔
بیان کے مطابق معاہدے میں فوج، سکیورٹی فورسز، مختلف عسکری گروپوں، عوامی مزاحمت سے وابستہ افراد، سیاست دانوں اور میڈیا کارکنوں کی رہائی بھی شامل ہے، جنہوں نے حوثی حراستی مراکز میں کئی برس گزارے۔
حکومتی بیان میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ گزشتہ دسمبر میں Muscat میں ہونے والی مفاہمتوں کا تسلسل ہے، جن کے تحت مرحلہ وار قیدیوں کی رہائی، حراستی مراکز کا معائنہ اور لاپتہ افراد و لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت International Committee of the Red Cross کی نگرانی میں مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جو مختلف علاقوں کا دورہ کرکے قیدیوں کی فہرستوں اور انسانی بنیادوں پر دیگر معاملات کا جائزہ لیں گی۔
رپورٹس کے مطابق یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان گزشتہ تین ماہ سے مذاکرات جاری تھے، جبکہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں مستقبل میں مزید قیدیوں کی رہائی کیلئے بھی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
واضح رہے کہ دونوں فریقین کے درمیان آخری بڑا قیدی تبادلہ 2023 میں ہوا تھا، جس میں تقریباً 900 افراد کو رہا کیا گیا تھا۔
