امریکی صدر اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اہم سرکاری دورے پر China روانہ ہوگئے ہیں، جہاں ان کی ملاقات چینی صدر Xi Jinping سے متوقع ہے۔ اس ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران جنگ، عالمی تجارت اور آبنائے ہرمز کے بحران سمیت اہم عالمی امور زیر بحث آئیں گے۔
ایئر فورس ون کے ذریعے روانگی کے وقت امریکی صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطحی حکام پر مشتمل ایک بڑا وفد بھی موجود تھا، جس میں امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio، وزیر دفاع Pete Hegseth، امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریئر، وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر اور جیمز بلیئر شامل تھے۔
وفد میں ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ اپنی اہلیہ کے ہمراہ بھی شریک ہیں، جبکہ امریکی صدر کے سائنس مشیر مائیکل کریٹسیوس اور چیف آف پروٹوکول مونیکا کراولی بھی اس دورے کا حصہ ہیں۔
چین روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں “بہترین” ہیں جبکہ انہوں نے Asim Munir اور Shehbaz Sharif کو شاندار شخصیات قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا Iran کے ساتھ ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو امریکی اور ایرانی دونوں عوام کے لیے بہتر ہو، تاہم تہران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ “ایران خود کو درست کر لے، ورنہ ہم اپنا کام مکمل کریں گے”، جبکہ ان کا دعویٰ تھا کہ ایرانی فوج کو فیصلہ کن شکست دی جا چکی ہے اور یہ معاملہ اب تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران پر عائد ناکہ بندی انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہے اور امریکا اس معاملے میں “کوئی کھیل” نہیں کھیل رہا۔
Xi Jinping سے متوقع ملاقات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کی صورتحال پر چینی صدر سے بات کریں گے، اگرچہ اس معاملے میں انہیں چین کی مدد کی ضرورت نہیں ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2026 کے اختتام سے قبل صدر شی جن پنگ امریکا کا دورہ کریں گے۔
روس یوکرین جنگ سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ Russia-Ukraine War جلد ختم ہونے والی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دورۂ چین کے حوالے سے پُرجوش ہیں اور آنے والے دنوں میں کئی مثبت پیش رفت متوقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چینی صدر کے ساتھ بات چیت کے لیے متعدد موضوعات موجود ہیں، تاہم ان کے مطابق ایران کی صورتحال اس وقت امریکا کے “مکمل کنٹرول” میں ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ چین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران اور خلیجی خطے میں کردار ادا کرے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانے میں مدد فراہم کرے۔
