روس نے اپنے جدید اسٹریٹیجک میزائل “سرمت” کے کامیاب تجربے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ میزائل رواں سال کے اختتام تک باقاعدہ طور پر روسی فوجی سروس کا حصہ بن جائے گا۔
روسی اسٹریٹیجک میزائل فورسز کے کمانڈر Sergei Karakayev نے منگل کے روز Vladimir Putin کو میزائل کے کامیاب تجربے سے متعلق بریفنگ دی۔
صدر پیوٹن نے اس موقع پر کہا کہ “سرمت” میزائل کی وارہیڈ صلاحیت مغربی ممالک کے کسی بھی مساوی دفاعی نظام سے چار گنا زیادہ ہے، جبکہ اس کی رینج 35 ہزار کلومیٹر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
روسی صدر کے مطابق یہ میزائل روس کی جوہری دفاعی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرے گا اور اسے جلد باقاعدہ طور پر فوجی آپریشنل سروس میں شامل کر لیا جائے گا۔
RS-28 Sarmat کو روس کے جدید ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں میں شمار کیا جاتا ہے، جسے مغربی ممالک میں “Satan II” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ میزائل متعدد جوہری وارہیڈز لے جانے اور جدید دفاعی نظاموں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
صدر پیوٹن نے مزید کہا کہ روس کے دیگر جدید اسٹریٹیجک ہتھیاروں، بشمول Poseidon ایٹمی آبدوز ڈرون اور نئے ایٹمی کروز میزائل پر کام بھی آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے اس اعلان سے عالمی سطح پر اسلحہ کی نئی دوڑ اور اسٹریٹیجک توازن سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روس اور مغربی ممالک کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔
