دبئی / واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی امریکی امن تجویز پر ایران کے ردعمل کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دے دیا۔
امریکی صدر نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا:
’’میں نے ابھی ایران کے نام نہاد نمائندوں کا جواب پڑھا ہے، مجھے یہ پسند نہیں آیا، یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔‘‘
امریکی صدر نے اپنے بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق تہران کے جواب میں تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی، خصوصاً لبنان کی صورتحال، اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق تہران نے تجویز دی ہے کہ مزید حساس معاملات، بشمول جوہری پروگرام، پر بات چیت سے پہلے جنگ کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تہران کی تجاویز میں فوری جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران پر مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد امریکی پابندیوں کی واپسی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی انتہائی افزودہ یورینیم کے ایک حصے کو کم افزودہ کرنے اور باقی ذخائر کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان، جو حالیہ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، نے ایران کا جواب امریکی حکام تک پہنچا دیا ہے۔
دوسری جانب ایک ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی کے باوجود خلیجی خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور مختلف ممالک میں دشمن ڈرونز کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
اسی دوران قطر کی توانائی کمپنی کے زیر انتظام گیس بردار بحری جہاز ’’الخریات‘‘ کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے کی اجازت دے دی گئی، جو پاکستان کی بندرگاہ قاسم کی جانب روانہ ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ جنگ کے آغاز کے بعد پہلا قطری بحری جہاز ہے جس نے آبنائے ہرمز عبور کی۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے پاکستان اور قطر کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر اس بحری نقل و حرکت کی اجازت دی۔
