روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس وقت اٹھارہ ہزار سے تئیس ہزار کے درمیان دہشتگرد موجود ہیں جن کا تعلق بیس سے زائد مختلف شدت پسند گروہوں سے ہے۔
روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ عناصر افغانستان میں نسبتاً آزادانہ طور پر سرگرم ہیں، جس کے باعث خطے کی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے افغانستان کی صورتحال کو علاقائی استحکام کیلئے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔
سرگئی شوئیگو کے مطابق دہشتگردی کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ بھی خطے کیلئے اہم خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے منسلک سیکیورٹی خدشات اب بھی Shanghai Cooperation Organisation کے رکن ممالک کیلئے تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ خطے کے ممالک کو دہشتگردی، انتہا پسندی اور منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ وسطی ایشیا اور ہمسایہ ریاستوں کے امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال اور سرحد پار شدت پسند سرگرمیوں پر عالمی سطح پر دوبارہ تشویش بڑھ رہی ہے۔
