Table of Contents
لندن: روس نے بحیرہ اسود میں یوکرین کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ماسکو نے اسے ’’آدھا اقدام‘‘ قرار دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے جمعہ کو اس حوالے سے بیان جاری کیا۔ وزارت نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں جنگ بندی کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی۔
روس اور یوکرین نے حالیہ ہفتوں میں بحیرہ اسود میں حملے تیز کیے ہیں۔ ان حملوں میں تجارتی بحری جہاز بھی متاثر ہوئے ہیں۔
بحیرہ اسود میں کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی اناج کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
روس کا یوکرین پر الزام
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے یوکرین پر الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین شہری جہاز رانی کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔
زاخارووا کے مطابق یوکرین کی کارروائیوں کا مقصد کشیدگی بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات تنازع کو مزید طول دے سکتے ہیں۔
روسی ترجمان نے کہا کہ ماسکو کو صورتحال میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اسی وجہ سے روس کسی عارضی جنگ بندی کی حمایت نہیں کرتا۔
ترکی کی تجویز پر روس کا جواب
ماریا زاخارووا نے ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے بیان پر بھی ردعمل دیا۔
ہاکان فیدان نے کہا تھا کہ ترکی نے روس اور یوکرین کو تجاویز دی ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد بحیرہ اسود میں فوجی کارروائیاں روکنا تھا۔
زاخارووا نے کہا کہ روس کو ترکی سے کوئی باضابطہ تجویز موصول نہیں ہوئی۔ اس لیے ماسکو نے کسی رسمی تجویز پر غور نہیں کیا۔
یوکرین نے بھی پیشکش کی
رائٹرز کے مطابق یوکرین نے بھی ایک تجویز روس تک پہنچائی ہے۔ اس میں شہری بحری جہازوں کے خلاف حملے روکنے کی بات کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش ایک تیسرے فریق کے ذریعے روس تک پہنچائی گئی۔ مقصد بحیرہ اسود میں شہری جہاز رانی کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اناج معاہدے کی بحالی پر روس کا مؤقف
زاخارووا نے بحیرہ اسود کے اناج معاہدے کا بھی حوالہ دیا۔ یہ معاہدہ 2022 اور 2023 میں ترکی کی ثالثی سے نافذ ہوا تھا۔
اس معاہدے کے تحت روس اور یوکرین نے عالمی منڈیوں کو اناج فراہم کیا۔ دونوں ممالک دنیا کے بڑے اناج برآمد کنندگان میں شامل ہیں۔
روسی ترجمان نے معاہدے کی سابقہ شکل میں واپسی کو مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق یہ انتظام یکطرفہ نوعیت اختیار کر گیا تھا۔
روس نے معاہدہ ختم ہونے کے بعد یوکرین اور مغرب پر الزامات عائد کیے تھے۔ ماسکو کا کہنا تھا کہ معاہدے سے متعلق اس کی شرائط پوری نہیں کی گئیں۔
بحیرہ اسود میں موجودہ کشیدگی روس اور یوکرین کے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ تجارتی جہاز رانی اور عالمی غذائی سپلائی بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہی ہے۔
