امریکا نے وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد انسانی امدادی سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ملک پر عائد متعدد اقتصادی پابندیوں میں چار ماہ کے لیے عارضی نرمی کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ (ٹریژری) کی جانب سے جاری خصوصی لائسنس کے مطابق 23 اکتوبر 2026 تک وینزویلا میں زلزلے سے متعلق امدادی اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے ضروری تمام مالی لین دین کی اجازت ہوگی تاکہ بین الاقوامی امدادی ادارے متاثرہ علاقوں تک بلا رکاوٹ امداد پہنچا سکیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق چلی، کولمبیا، ایل سلواڈور، اٹلی، میکسیکو، سوئٹزرلینڈ اور امریکا سے تعلق رکھنے والی امدادی ٹیمیں وینزویلا پہنچ چکی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا نے 2019 کے بعد سے وینزویلا پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، جن کے باعث مالی لین دین اور بین الاقوامی تجارت پر مختلف نوعیت کی پابندیاں نافذ تھیں۔ تاہم حالیہ انسانی بحران کے پیش نظر ان پابندیوں میں محدود اور عارضی نرمی دی گئی ہے۔
وینزویلا میں بدھ کے روز آنے والے دو طاقتور زلزلوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر بالترتیب 7.5 اور 7.2 ریکارڈ کی گئی تھی۔ ان زلزلوں نے دارالحکومت کاراکاس اور دیگر کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 920 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور بے گھر ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے خدشے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا امکان برقرار ہے، جبکہ بین الاقوامی امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
