سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مجوزہ مذاکرات اچانک منسوخ کر دیے گئے ہیں، جس کی تصدیق سوئس وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں کی ہے۔ بیان کے مطابق برگنسٹاک میں دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مذاکرات اب منعقد نہیں ہوں گے۔
سوئس وزارتِ خارجہ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سوئٹزرلینڈ کے دورے کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی نائب صدر کی روانگی آج متوقع تھی، تاہم ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ جے ڈی وینس فی الحال آج رات سوئٹزرلینڈ نہیں جا رہے۔
امریکی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق اگرچہ نائب صدر کا دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے، تاہم واشنگٹن اب بھی ایران کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات جلد شروع ہونے کا خواہاں ہے اور سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
سوئس حکام کی جانب سے مذاکرات کی منسوخی کی تصدیق کے بعد یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ کس وجہ سے کیا گیا اور آیا مستقبل میں نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا یا نہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ روز اسرائیل اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تشدد کے ذریعے تمام قومی سلامتی کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ امریکا سفارتی راستوں کو ترجیح دیتا ہے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔
مبصرین کے مطابق مذاکرات کی منسوخی سے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں پر عارضی اثر پڑ سکتا ہے، تاہم امریکا کی جانب سے تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کو اس عمل کے مکمل خاتمے کے بجائے ایک وقتی تعطل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
