امریکا نے کیوبا کے خلاف اپنی پابندیوں میں مزید وسعت دیتے ہوئے مسلح افواج کے وزیر جنرل الوارو لوپیز میرا، سات دیگر اعلیٰ فوجی حکام اور پانچ سرکاری اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کیوبا کے غیر ملکی فوجی تعاون اور اسلحے کی خریداری کے مبینہ نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق پابندیاں ان ریاستی اداروں، فوجی تنظیموں اور وزارتِ انقلابی مسلح افواج (MINFAR) کے اہلکاروں پر عائد کی گئی ہیں جو مبینہ طور پر غیر ملکی دفاعی تعاون اور کیوبا کے لیے فوجی ساز و سامان کی خریداری میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں کیوبا کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف، فوج کے خارجہ تعلقات اور اقتصادی امور کے سربراہان، جبکہ چین اور روس میں تعینات کیوبا کے فوجی اتاشی بھی شامل ہیں۔
واشنگٹن کا الزام ہے کہ پابندیوں کا شکار بننے والے سرکاری ادارے چین اور روس سمیت ایسے ممالک سے ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کی خریداری میں معاونت کر رہے ہیں جنہیں امریکا اپنے تزویراتی حریف قرار دیتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام 20 جولائی کو جاری ہونے والی رپورٹ "Cuba: Capital of Communism in the 21st Century” کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس میں روس اور چین کے ساتھ کیوبا کے دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو اجاگر کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کیوبا کو فوجی سازوسامان، نگرانی کی جدید ٹیکنالوجی اور دیگر دفاعی صلاحیتیں فراہم کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حالیہ مہینوں میں کیوبا پر دباؤ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ واشنگٹن نے ایندھن کی فراہمی پر مزید پابندیاں عائد کی ہیں اور متعدد نئے اقتصادی اقدامات متعارف کرائے ہیں جن کا مقصد کیوبا کی حکمران کمیونسٹ حکومت پر دباؤ بڑھانا بتایا گیا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے آزاد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکی پابندیوں میں اضافے سے کیوبا کو شدید انسانی اور معاشی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں اور دیگر پابندیوں کے باعث ملک میں بجلی، نقل و حمل، آبپاشی اور بنیادی خدمات شدید متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ ان کے منفی اثرات خواتین، بچوں، بزرگوں اور دیگر کمزور طبقات پر زیادہ پڑ رہے ہیں۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ کیوبا کے خلاف پابندیوں کا مقصد حکمران کمیونسٹ نظام پر دباؤ بڑھانا اور اس کی دفاعی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے، جبکہ ہوانا ان اقدامات کو اپنی خودمختاری اور داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتا رہا ہے۔
