امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر کی جائے اور عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے والی پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات منظور نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی ملک گیر احتجاج میں شدت لائے گی۔
لاہور میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام مزید معاشی بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے اور حکومت کو فوری طور پر عوامی مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جمعہ 7 اگست کو ملک بھر کے 510 مقامات پر پُرامن دھرنے دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق احتجاج کے دوران سڑکیں بند کی جائیں گی، تاہم ایمبولینس اور دیگر ہنگامی امدادی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر احتجاج میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں یا کارکنوں کو روکا گیا تو پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری تحریک کو حکومت مخالف تحریک میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
انہوں نے پیٹرولیم لیوی کو عوام پر "اضافی بوجھ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک لیٹر پیٹرول پر بھاری ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عام شہری، مزدور اور متوسط طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ خطے میں جنگی کشیدگی کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو بنیاد بنا کر پاکستان میں پیٹرول مہنگا کیا گیا، تاہم بعد ازاں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہونے کے باوجود عوام کو اس کا فائدہ منتقل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مہنگائی نے گھریلو اخراجات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے اور بہت سے خاندان روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کے ساتھ ساتھ اپنے غیر ضروری اخراجات میں بھی کمی لانی چاہیے تاکہ عوام پر مزید مالی بوجھ نہ ڈالا جائے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جمعہ کو شام چار بجے ملک بھر میں لاکھوں افراد مہنگائی، پیٹرولیم لیوی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف پُرامن احتجاج میں شریک ہوں گے۔
