Table of Contents
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے دو مختلف کارروائیوں کے دوران 21 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔
فائرنگ کے تبادلے میں 2 افسران سمیت 6 سیکیورٹی اہلکار اور حکومتی اہلکار شہید ہوئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائیاں 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب کی گئیں۔
چاغی میں 11 دہشتگرد ہلاک
آئی ایس پی آر کے مطابق چاغی کے علاقے نوکچہ میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔
دہشتگردوں نے کوئٹہ، تفتان قومی شاہراہ این-40 پر مسافروں کی آمدورفت متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے بھتہ خوری کے لیے ایک غیرقانونی چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش بھی کی۔
سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی۔
شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 11 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔
کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
کسٹمز ہاؤس پر حملہ ناکام
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں نے پشین کے علاقے زیارت کراس میں کسٹمز ہاؤس پر قبضے کی کوشش کی۔
سیکیورٹی فورسز نے حملے کا مؤثر جواب دیا۔
شدید فائرنگ کے نتیجے میں مزید 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فرار ہونے والے دہشتگردوں کا بھی تعاقب کیا گیا۔
کارروائی کے دوران مزید دہشتگرد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
6 سپوت شہید
آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 6 اہلکار شہید ہوئے۔
شہید ہونے والوں میں 2 افسران اور کسٹمز ڈپارٹمنٹ کا ایک سرکاری اہلکار بھی شامل ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
دہشتگردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کی کوشش
آئی ایس پی آر نے کسٹمز ہاؤس پر حملے کو دہشتگردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا مظہر قرار دیا۔
بیان کے مطابق حملے کا مقصد کسٹمز حکام کو قانونی فرائض کی انجام دہی سے روکنا تھا۔
دہشتگرد علاقے میں جاری مجرمانہ سرگرمیوں کو سہولت دینا چاہتے تھے۔
کلیئرنس آپریشن جاری
آئی ایس پی آر کے مطابق گردونواح کے علاقوں میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
سیکیورٹی فورسز فرار دہشتگردوں کی تلاش کر رہی ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔
سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔
