اسلام آباد، 31 جولائی 2026: سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین سینیٹر علامہ ناصر عباس جعفری نے عراق پر امریکہ اور سعودی عرب کے حالیہ مشترکہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بلاجواز، عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے اصولوں سے خطرناک انحراف قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عراق میں امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ فوجی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں اور کسی بھی ملک کو صرف الزامات کی بنیاد پر کسی آزاد اور خودمختار ریاست پر حملہ کرنے کا حق حاصل نہیں، خواہ اس کی فوجی طاقت یا عالمی اثر و رسوخ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
ناصر عباس جعفری نے کہا کہ پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) عراق کی مسلح افواج کا قانونی حصہ ہیں، اس لیے ان پر حملے اور ان میں اربعین کے زائرین سمیت شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کو "کولیٹرل ڈیمیج” قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچائیں گی اور ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ کو تحمل اور سفارت کاری کی ضرورت ہے، یہ اقدامات کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ ان کے بقول سعودی حکام کی جانب سے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران یہ اعتراف کیا گیا کہ حملوں کا مقصد ایک دوسرے فریق کو پیغام دینا تھا، جو نہ صرف نامناسب بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عراق کو کسی دوسرے ملک کے تزویراتی پیغامات یا علاقائی طاقتوں کے تنازعات کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس طرح کا طرزِ عمل بین الاقوامی نظام اور علاقائی استحکام کو مزید کمزور کرے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ عراق پر حالیہ حملوں میں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے متعدد مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم کے مطابق حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے، جبکہ حتمی اعداد و شمار بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
پی ایم ایف نے ان حملوں کو "دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عراق کی خودمختاری، سرکاری سیکیورٹی اداروں اور ملکی سلامتی کے خلاف ایک سنگین اقدام ہے۔

