Table of Contents
لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں پانچ روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی۔
اس دوران عوامی اجتماعات پر پابندی عائد ہوگی۔
حکومت نے یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کیا ہے۔
ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
عوامی اجتماعات، ریلیوں اور مظاہروں پر پابندی
محکمہ داخلہ پنجاب نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پانچ یا اس سے زائد افراد کا اجتماع ممنوع ہوگا۔
یہ پابندی عوامی مقامات، سڑکوں اور شاہراہوں پر بھی ہوگی۔
کھلی جگہوں پر اجتماع کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔
ریلی، جلسے اور جلوس بھی پابندی کی زد میں آئیں گے۔
دھرنوں اور مظاہروں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
دہشت گردی کے ممکنہ خطرات
نوٹیفکیشن کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رپورٹس دی ہیں۔
انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس بھی حکومت کو موصول ہوئی ہیں۔
رپورٹس میں عوامی اجتماعات کے دوران ممکنہ دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
حکومت نے انہی خدشات کے پیش نظر پابندی عائد کی ہے۔
عبادات اور دیگر سرگرمیاں پابندی سے مستثنیٰ
نوٹیفکیشن کے مطابق بعض سرگرمیوں کو پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
شادی کی تقریبات پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔
نماز جنازہ اور تدفین بھی مستثنیٰ ہوں گی۔
مساجد اور گرجا گھروں میں عبادات کی اجازت ہوگی۔
سرکاری اور نیم سرکاری ادارے اپنے فرائض انجام دے سکیں گے۔
عدالتوں کی کارروائیاں بھی پابندی سے مستثنیٰ قرار دی گئی ہیں۔
