Table of Contents
اسلام آباد: افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر رابطوں اور تعاون پر زور دیا ہے۔
انہوں نے یہ بات نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔
سفیر شکیب نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، جغرافیائی اور سماجی روابط کو اجاگر کیا۔
پاکستان اور افغانستان کے گہرے تعلقات
سردار احمد شکیب نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان محض دو پڑوسی ممالک نہیں ہیں۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کا جغرافیہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
دونوں ملکوں کے عوام اور معاشروں کے درمیان بھی گہرے تعلقات ہیں۔
انہوں نے دونوں ممالک کی تاریخ کے باہمی ربط کی طرف بھی توجہ دلائی۔
تجارت اور عوامی رابطوں کی اہمیت
افغان سفیر نے تجارت اور ٹرانزٹ کو دونوں ممالک کے لیے اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کی نقل و حرکت بھی دونوں معاشروں کو جوڑتی ہے۔
ان کے مطابق یہ روابط دونوں ممالک کی معیشتوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں کی جنگوں نے خطے کی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔
اس دوران پاکستان اور افغانستان کے سیکیورٹی خدشات بھی ایک دوسرے سے جڑے رہے ہیں۔
علاقائی تعاون پر زور
سفیر شکیب نے علاقائی تعاون کے وسیع تر وژن پر بھی بات کی۔
انہوں نے رابطوں اور باہمی انحصار کو استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
ان کے مطابق دونوں ممالک نے تنازعات کے اثرات برداشت کیے ہیں۔
تاہم ان کی مشترکہ تقدیر تقسیم کے بجائے تعاون میں ہے۔
اعتماد سازی کی ضرورت
افغان سفیر کے خطاب میں اعتماد سازی کی اہمیت بھی نمایاں رہی۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کے مطابق باہمی رابطے اور تعاون مستقبل کے لیے بہتر راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے پل بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔
این ڈی یو میں علاقائی امور پر گفتگو
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں سفیر شکیب کے خطاب میں علاقائی روابط اور تعاون پر توجہ رہی۔
ان کے خیالات نے پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم اور سیکیورٹی ماہرین کے درمیان مکالمے کی اہمیت اجاگر کی۔
خطاب میں اس مؤقف پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
سفیر شکیب کے مطابق تعاون دونوں ممالک کے لیے آگے بڑھنے کا اہم راستہ ہے۔
