Table of Contents
اسلام آباد: ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے اسلام آباد میں پہلے ایتھوپین کافی کیفے کا افتتاح کردیا۔
یہ کیفے پاکستان اور ایتھوپیا کے بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
افتتاح سے قبل روایتی ایتھوپین کافی تقریب بھی منعقد ہوئی۔
اس تقریب میں ایتھوپین کمیونٹی، سفارتخانے کے عملے اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔


پاکستان میں ایتھوپین کافی کا نیا تعارف
تقریب کے بعد ایتھوپین سفیر نے میڈیا سے گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ کیفے پاکستان میں ایتھوپین کافی کے باقاعدہ تعارف کی علامت ہے۔
سفیر کے مطابق جڑواں شہروں میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا مخصوص ایتھوپین کیفے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا کو ’لینڈ آف اوریجنز‘ کہا جاتا ہے۔
ایتھوپیا کو انسانیت کی جائے پیدائش بھی قرار دیا جاتا ہے۔
یہ ملک عربیکا کافی کی سرزمین کے طور پر بھی مشہور ہے۔
کیفے کا نام ’حبیشہ‘ کیوں رکھا گیا؟
ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے کیفے کے نام کو بھی اہم قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ کیفے کا نام ’حبیشہ‘ رکھا گیا ہے۔
حبیشہ ایتھوپیا کا تاریخی نام ہے۔
یہ نام پاکستانی عوام کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستانی مسلمان حضرت بلال حبشیؓ سے گہری عقیدت رکھتے ہیں۔
وہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کا بھی احترام کرتے ہیں۔
بادشاہ نجاشی نے ہجرتِ حبشہ کے دوران مسلمانوں کو پناہ دی تھی۔
ایتھوپین پاکستانی جوڑے کی ملکیت
سفیر نے کیفے کی ملکیت کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا۔
کیفے ایک ایتھوپین پاکستانی جوڑے کی ملکیت ہے۔
ان کے مطابق یہ دونوں ممالک کے عوام میں بڑھتی قربت کی علامت ہے۔
یہ اقدام دونوں ملکوں کے درمیان عوامی روابط کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔
ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے ثقافتی تبادلوں میں اضافے پر زور دیا۔
انہوں نے پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
’حبیشہ‘ ثقافتی رابطے کا پلیٹ فارم ہوگا
کیفے کے مالک نعیم ہاشمی نے بھی تقریب سے گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ ’حبیشہ‘ کے ذریعے دونوں ممالک کو قریب لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان کے مطابق کیفے ثقافتی رابطے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
یہاں لوگ دونوں ممالک کے فن اور ثقافت سے آگاہ ہوسکیں گے۔
موسیقی اور سیاحت کے شعبوں میں بھی باہمی تبادلے کو فروغ دیا جائے گا۔
نعیم ہاشمی نے کہا کہ کیفے صرف کافی پیش کرنے کی جگہ نہیں ہے۔
ان کے مطابق یہ پاکستان اور ایتھوپیا کے عوامی روابط کا ذریعہ بھی بنے گا۔
