اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے خلاف حالیہ جنگ کو "تاریخی کامیابی” قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ میں قائم سکیورٹی زونز میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی اور ان علاقوں سے فوری انخلا نہیں کیا جائے گا۔
پیر کے روز ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ فوجی کارروائیوں نے ایران کی جانب سے لاحق "جوہری خطرے” کو مؤثر طور پر ختم کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنی سلامتی کو درپیش ایک بڑے وجودی خطرے کو ٹال دیا ہے اور اسی مقصد کے تحت خطے میں دفاعی نوعیت کے سکیورٹی زونز قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل غزہ، لبنان اور شام میں ان علاقوں میں اس وقت تک موجود رہے گا جب تک ملکی سلامتی کے تقاضے پورے ہوتے رہیں گے۔ نیتن یاہو کے مطابق اسرائیلی افواج کا بنیادی مقصد سرحدی آبادیوں کا تحفظ اور مستقبل کے ممکنہ خطرات کا سدباب ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت (MOU) پر اتفاق کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس کے بعد خطے میں جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم اسرائیل میں اس پیش رفت پر مختلف ردعمل دیکھنے میں آ رہے ہیں اور بعض سیاسی و سکیورٹی حلقے معاہدے کے ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
اپنی پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیتوں اور فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ متعدد اہم تنصیبات اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ایران کی عسکری صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی مکمل تفصیلات ابھی اسرائیل کے سامنے نہیں آئیں۔ ان کے مطابق اسرائیل کسی بھی ایسے معاہدے کی نگرانی جاری رکھے گا جو اس کی قومی سلامتی سے متعلق ہو۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل کے نتیجے میں لبنان میں جنگ بندی کے امکانات پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ لبنانی ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان میں نسبتاً سکون دیکھنے میں آیا ہے، اگرچہ بعض مقامات پر محدود نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مستقل معاہدہ مشرق وسطیٰ کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تاہم اسرائیلی حکومت کے بعض حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ملک کی دفاعی پالیسی اور سکیورٹی فیصلے کسی بیرونی معاہدے کے تابع نہیں ہوں گے۔
نیتن یاہو نے اپنی گفتگو کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور مستقبل میں بھی اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
