یمن میں حوثیوں کے زیر انتظام میری ٹائم رابطہ ادارے نے بحیرۂ احمر کے باب المندب آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس عائد کرنے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس اہم آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت بدستور مفت جاری ہے۔
حوثیوں کے زیر انتظام ہیومینیٹیرین آپریشنز کوآرڈینیشن سینٹر (HOCC) نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ محفوظ بحری گزرگاہ کی سہولت مکمل طور پر رضاکارانہ اور بلا معاوضہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ "جو بھی فرد یا ادارہ باب المندب آبنائے سے گزرنے کے بدلے کسی قسم کی رقم طلب کرتا ہے، وہ نہ جمہوریہ یمن کی نمائندگی کرتا ہے اور نہ ہی HOCC سے اس کا کوئی تعلق ہے۔”
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رائٹرز نے رواں ہفتے علاقائی ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے حوثی بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس عائد کرنے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس تجویز پر جولائی میں تہران کے دورے کے دوران حوثی حکام اور ایرانی عہدیداروں کے درمیان تبادلہ خیال بھی ہوا، تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے کوئی حتمی تاریخ یا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، یہ تجویز سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی جانب سے سمندری ناکہ بندی کے اعلان کے تقریباً ایک ہفتے بعد زیر غور آئی تھی، تاہم حوثی حکام نے اب واضح کیا ہے کہ فی الحال جہازوں سے کسی قسم کی فیس وصول کرنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔

