کویت میں کرپشن کے ایک اہم مقدمے میں عدالت عظمیٰ نے سابق وزیر داخلہ اور سابق وزیر دفاع شیخ طلال الخالد کو خصوصی فنڈز میں خرد برد اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے 3 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے وزارت داخلہ کے خصوصی فنڈز کے غلط استعمال، غبن اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے سابق وزیر پر 3 ہزار کویتی دینار جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ کویت میں حالیہ برسوں کے نمایاں مالیاتی بدعنوانی کے مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔
اس سے قبل وزارتی عدالت بھی شیخ طلال الخالد کو سرکاری فنڈز میں خرد برد کے جرم میں 14 سال قید کی سزا سنا چکی ہے۔ اسی فیصلے میں عدالت نے انہیں تقریباً ایک کروڑ کویتی دینار واپس کرنے اور تقریباً 2 کروڑ کویتی دینار اضافی جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے کو کویت میں احتسابی عمل اور مالی شفافیت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس مقدمے کے مختلف قانونی پہلوؤں پر مزید کارروائی بھی متوقع ہے۔
کویت میں حالیہ برسوں کے دوران سرکاری اداروں میں مالی بدعنوانی کے خلاف اقدامات میں تیزی آئی ہے اور متعدد اعلیٰ حکام کے خلاف تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
