کیلیفورنیا کے موجاوی صحرا میں واقع امریکی فضائیہ کے مشہور اڈے ایڈورڈز ایئر فورس بیس پر ایک بڑا فضائی حادثہ پیش آیا، جہاں B-52 اسٹریٹوفورٹریس بمبار طیارہ معمول کے ٹیسٹ مشن کے دوران ٹیک آف کے چند لمحوں بعد گر کر تباہ ہوگیا۔ حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایڈورڈز ایئر فورس بیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حادثہ پیر کی صبح تقریباً 11 بج کر 20 منٹ پر پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حادثے میں کسی کے زندہ بچنے کے امکانات نہیں ہیں، تاہم ریسکیو اور امدادی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور تمام اہلکاروں کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
حادثے کے بعد سامنے آنے والی فضائی تصاویر میں جائے وقوعہ سے گہرے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے، جبکہ طیارہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا۔ رن وے کے قریب ہنگامی گاڑیوں اور امدادی عملے کی بڑی تعداد تعینات رہی۔ امریکی فوج نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ آیا طیارہ کسی قسم کے اسلحے یا حساس سامان سے لیس تھا یا نہیں۔
B-52 اسٹریٹوفورٹریس امریکی فضائیہ کا ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا اسٹریٹجک بمبار طیارہ ہے، جو 1955 سے سروس میں موجود ہے۔ یہ طیارہ روایتی اور جوہری دونوں اقسام کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ویتنام جنگ سے لے کر مشرق وسطیٰ کی حالیہ کارروائیوں تک متعدد فوجی آپریشنز میں استعمال ہوتا رہا ہے۔
حادثے کے بعد ایڈورڈز ایئر فورس بیس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا اور تمام آنے والی پروازوں کا رخ دیگر ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ حکام نے غیر تجارتی وزیٹر پاسز بھی معطل کر دیے تاکہ تمام وسائل ہنگامی ردعمل اور تحقیقات پر مرکوز رکھے جا سکیں۔
فضائی حادثات کے ماہر اور سابق امریکی تحقیقاتی اداروں کے افسر جیف گوزیٹی کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واقعہ پرواز کے کنٹرول سسٹم میں خرابی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ ان کے بقول ٹیک آف کے فوراً بعد طیارے کا گر جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی تکنیکی خرابی، انجن فیل ہونے، فلائٹ کنٹرول سسٹم میں نقص یا زیرِ آزمائش کسی نئے آلات کی ناکامی نے حادثے میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ B-52 بمبار طیارے سات دہائیوں سے زائد عرصے سے امریکی فضائیہ کا حصہ ہیں، تاہم ٹیسٹ مشنز ہمیشہ معمول کی پروازوں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان میں نئے آلات اور نظاموں کی جانچ کی جاتی ہے۔
امریکی فضائیہ نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اور دیگر متعلقہ ادارے بھی تفتیش میں شامل ہوں گے۔
