Table of Contents

انٹرویو: سید فرزند علی
انٹرویو کا بنیادی خلاصہ
- لاہور سے عقیدت: قونصل جنرل نے لاہور کو ایک عظیم تاریخی و ادبی شہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ڈیوٹی سنبھالنے سے پہلے مزارِ اقبال پر حاضری دی، اور لاہور کی تاریخی بنیاد گواہ ہے کہ پاک-ایران تعلقات کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔
- پاک-ایران گیس پائپ لائن: امریکہ گیس پائپ لائن منصوبے میں جبر سے کام لے رہا ہے تاکہ پاکستانی عوام اس سے مستفید نہ ہو سکیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فیلڈ مارشل و آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، جن کے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اس منصوبے کے لیے کوئی راستہ نکالیں گے۔
- چاہ بہار بمقابلہ گوادر: چاہ بہار اور گوادر بندرگاہیں ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ دوست ہیں، جو خطے کو چائنا، سینٹرل ایشیا اور یورپ کی مارکیٹس سے جوڑ کر انرجی کا حب بن سکتی ہیں۔
- آبنائے ہرمز اور ٹرانزٹ فیس: ایران صدیوں سے آبنائے ہرمز پر فری سروسز دے رہا تھا، لیکن امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے بعد سیکیورٹی اور انتظام کے اخراجات پورے کرنے کے لیے فیس کا اجراء کیا گیا۔ ٹرمپ کے 20 فیصد کارگو ٹیکس کے مقابلے میں ایران منصفانہ اور کم پیسے لے گا۔
- عمان کا سمندری راستہ اور سیکورٹی: جنگ کے دوران قوانین الگ ہوتے ہیں۔ جب تک قومی سلامتی کو خطرات موجود ہیں، جہازوں کو اسی راستے کا انتخاب کرنا چاہیے جو ایران کہتا ہے۔
- 60 روزہ معاہدے کی خلاف ورزی: پاکستان نے جنگ بندی کے لیے تاریخی کردار ادا کیا لیکن امریکہ نے پہلے 30 دنوں میں ہی معاہدے کی متعدد خلاف ورزیاں کیں، کیونکہ وہ امن پر یقین نہیں رکھتا۔
- انتقام اور مذاکرات کا تضاد: سپریم لیڈر کی شہادت کا انتقام عوامی مطالبہ ہے اور یہ جنگی جرم ہے۔ اس کا مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں، ایران کی جنگ انتقام کے لیے نہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے ہے۔
- جنگ کے نقصانات کا اعتراف: 40 روزہ جنگ کے دوران امریکی فورسز نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جس میں 1 لاکھ 23 ہزار گھر، 30 ہسپتال، 1200 اسکول، 30 یونیورسٹیاں اور پانی کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا۔ جواب میں ایران بھی خطے کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔
- گریٹر اسرائیل اور تسلط کا الزام: ایران پر عرب ممالک پر تسلط کا الزام غیر منصفانہ ہے۔ اسرائیل نے "گریٹر اسرائیل” کا نقشہ چھاپا ہے جس میں لبنان، شام، مصر اور سعودی عرب شامل ہیں، اور اس منصوبے کے سامنے اکیلی رکاوٹ ایران ہے۔
- آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت: ٹرمپ کا یہ دعویٰ بالکل جھوٹ ہے کہ ان کی صحت 90 فیصد ٹھیک نہیں ہے۔ وہ بالکل ٹھیک ہیں، صرف سیکیورٹی فورسز کے مشورے پر عارضی طور پر منظرِ عام سے دور ہیں۔


تفصیلی انٹرویو: سوال و جواب


سوال: لاہور پاکستان کا ثقافتی دل کہلاتا ہے اور ایران کے ساتھ اس کے گہرے تاریخی روابط ہیں۔ لاہور میں بطور قونصل جنرل آپ کا اب تک کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): مجھے بہت خوشی ہے کہ مجھے یہ سعادت ملی کہ میں پاکستان میں خدمات کے لیے لاہور میں قیام کروں۔ لاہور کو تاریخی اور ادبی شہر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو پاکستان آیا اور اگر وہ لاہور نہیں آیا تو یوں سمجھیں کہ وہ پاکستان ہی نہیں آیا۔ میں اپنے ان تمام دوستوں کو جو پاکستان تشریف لائیں، انہیں دعوت دیتا ہوں کہ وہ لاہور ضرور تشریف لائیں۔ اس پورے دورانیے میں مجھے بالکل بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔ یہاں کے جو پیارے اور مہربان لوگ ہیں، ان کی مہمان نوازی سے دل خوش ہو گیا۔ یہاں ادبی مقام بہت زیادہ ہے۔ ہمارے لوگ جو پاکستان آتے ہیں ان کی دلچسپی ہوتی ہے کہ وہ لاہور میں مزارِ اقبال پر حاضری ضرور دیں۔ میں بھی جب لاہور آیا تو ڈیوٹی سنبھالنے سے پہلے احترام کے طور پر مزارِ اقبال کا دورہ کیا۔ لاہور کی تاریخی بنیاد گواہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہت طاقت اور مضبوط جڑیں ہیں۔
سوال: پاکستان اور ایران کے عوامی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایرانی قونصلیٹ لاہور مستقبل میں کن نئے منصوبوں پر کام کر رہا ہے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): ثقافت میں پاکستان اور ایران کے تعلقات دیرینہ ہیں اور ان میں سب سے اہم ترین کڑی فارسی زبان ہے، جس نے دونوں قوموں کو ایک ساتھ جوڑا ہوا ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے سے مزید آشنا کریں۔ گزشتہ سال یومِ اقبال کے موقع پر ہم نے ایران سے موسیقی کا ایک وفد بلایا تھا جس نے الحمرا میں علامہ اقبال کے اشعار پڑھے۔ ہمیں ان مواقع سے استفادہ کرنا ہوگا اور دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینی ہوں گی۔
ان کامزید کہناتھاکہ سینما کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ آپس میں تعاون کریں اور علامہ اقبال پر ایک فلم بنائیں۔ سیاحت کے حوالے سے دونوں ممالک فعال ہیں اور یہاں قونصلیٹ میں روزانہ کی بنیاد پر لوگ آتے ہیں تاکہ ایران کا ویزہ لے سکیں۔ ہماری دلچسپی ہے کہ ”نوروز“ کو پاکستان کے عوام کے ساتھ منائیں، تاہم گزشتہ سال جاری جنگ اور چند ماہ قبل رہبرِ معظم سپریم لیڈر کی شہادت کی وجہ سے نو روز کا جشن نہیں منایا گیا۔ کھیل کے حوالے سے بھی ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ ایران میں یہ طے شدہ ہے کہ کرکٹ کا کوچ پاکستانی ہوگا، اسی طرح پاکستان میں تائیکوانڈو کا کوچ ایرانی ہے اور ہماری ان ڈور کھیلوں کی ٹیموں کا آپس میں تبادلہ ہوتا ہے۔ کشتی اور کبڈی، جو ایران میں اہم کھیل ہیں، اس حوالے سے بھی ہمارے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور بہت سارے ثقافتی موضوعات ہیں جو ہمارے درمیان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سوال: آپ دونوں ممالک کی میڈیا انڈسٹری کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا دونوں ممالک کے صحافیوں کے درمیان ‘میڈیا ایکسچینج پروگرامز’ سے غلط فہمیوں کے ازالے اور درست معلومات کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے؟ اس حوالے سے کیا کوششیں جاری ہیں؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): پاکستانی میڈیا کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ گزشتہ سال ہمارے صدر نے جب پاکستان کا دورہ کیا تو حکام کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے کہ دونوں ممالک کے درمیان میڈیا تعلقات کو فروغ حاصل ہوگا۔ میرے پاکستانی میڈیا کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ اگر ہم صداقت سے بات کرنا چاہیں تو پاکستان کے جو صحافی ہیں وہ بہت سمجھدار اور عقلمند ہیں، اور جب کبھی کوئی ایسی بات ہوئی جو ایران کے مخالف تھی، تو جب اس پر ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کی تو وہ صورتحال کو انڈرسٹینڈ کر گئے۔ ایران کے چند نمائندے پاکستان میں موجود ہیں اور پاکستان کے پاس بھی یہ موقع ہے کہ ایران میں میڈیا کی موجودگی کو زیادہ کرے۔ رہبرِ معظم کی تدفین کے موقع پر بھی پاکستان سے صحافی ایران گئے تھے۔ دونوں ممالک کے میڈیا کو خبر کے حوالے سے ایک دوسرے کا بنیادی ذریعہ بننا چاہیے؛ یعنی اگر ہم ایران کی خبریں جاننا چاہتے ہیں تو ہمیں ایرانی میڈیا ذرائع کو ہی استعمال کرنا چاہیے، اور ہمیں بھی جب پاکستان کے بارے میں کوئی خبر جاننی ہو تو ہمارے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ ہم مغربی یا بیرونی اداروں (جیسے رائٹرز وغیرہ) سے رجوع نہ کریں کیونکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ہمارا اس وقت جو انٹرویو ہو رہا ہے، اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو بہتر طور پر جان سکیں۔
سوال: دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں اور تھنک ٹینکس کے درمیان تحقیق اور علم کے تبادلے کے لیے کیا کوئی نئے معاہدے یا سکالرشپ پروگرام زیرِ غور ہیں؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): اسلام آباد میں موجود ہمارے سفارتی ساتھی پاکستانی تھنک ٹینکس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، البتہ اس شعبے میں روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
سوال 5: پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کو بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پاکستانی عوام کی بھی خواہش ہے کہ ہم گیس اور تیل کی ضروریات ایران سے پوری کریں جبکہ پاک-ایران گیس پائپ لائن پر امریکی پابندیوں کے سائے طویل عرصے سے منڈلا رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں اس منصوبے کے مستقبل اور دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف کو کب تک حاصل کر لیں گے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک انتہائی پذیرائی کے قابل پراجیکٹ ہے اور گیس پائپ لائن ایک ایسا اہم منصوبہ ہے جس سے پاکستان اپنے انرجی کے بحران پر قابو پا سکتا ہے۔ پاکستان کے عوام کو گرمیوں اور سردیوں میں اس انرجی کی شدید ضرورت ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا مثبت پہلو ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بڑی بچت کا باعث بھی ہے۔ خود پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے یہ کہا تھا کہ یہ گیس پائپ لائن منصوبہ دونوں ممالک کی دوستی کا نشان ہے۔
سال 2009 میں جب سے یہ معاہدہ ہوا ہے، ایران نے اپنے حصے میں گیس پائپ لائن بچھا دی ہے اور میرے خیال میں پاکستان کا جو 81 کلومیٹر کا ایریا بنتا ہے، اس پر پاکستان کو لائن بچھانی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے ایران دنیا میں سرفہرست ہے اور گیس کے ذخائر میں دوسری پوزیشن پر ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ یہ جو دوستی کا نشان ہے وہ محفوظ رہے۔ امریکہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ پاکستانی عوام اس سے مستفید ہو سکیں، امریکہ کی حکومت سراسر جبر سے کام لے رہی ہے۔ اسلام آباد میں موجود ایرانی سفیر پاکستانی حکام سے مل کر کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی ایسا راستہ نکلے جس سے پاکستان کے عوام اس پراجیکٹ سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جن کے امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں، وہ کوئی ایسا راستہ نکالیں کہ پاکستان کی عوام اس پراجیکٹ سے مستفید ہو سکے۔
سوال: بھارت اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں اور دونوں ملک ایک دوسرے کو حریف قرار دیتے ہیں۔ دوسری طرف بھارت اور ایران کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اگر مستقبل میں کسی نازک موڑ پر ایران کو یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ آپ نے سفارتی تعلقات پاکستان کے ساتھ رکھنے ہیں یا بھارت کے ساتھ، تو آپ کس کو ترجیح دیں گے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): سیاسی میدان میں ہمارا کوئی ہمیشہ کا دوست یا ہمیشہ کا دشمن نہیں ہوتا۔ ہمارے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کسی تیسرے ملک کے زیرِ اثر نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہماری عوام کے ہاتھوں میں جو جھنڈے نظر آئے وہ پاکستان، لبنان اور اسپین کے جھنڈے تھے۔ گزشتہ تین سالوں میں ہمارے صدور نے یہاں کا دورہ کیا؛ شہید سید ابراہیم رئیسی صاحب ایک بار آئے اور ڈاکٹر مسعود پزشکیان ایک سال میں دو مرتبہ تشریف لائے، اور دونوں صدور جب پاکستان تشریف لائے تو وہ سب سے پہلے لاہور آئے اور مزارِ اقبال پر حاضری دی۔ خود پاکستان بھی ہر ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ میں ایک مثال دیتے ہوئے سوال اٹھاتا ہوں کہ سعودی عرب کے تجارتی تعلقات پاکستان کے ساتھ زیادہ ہیں یا بھارت کے ساتھ؟ یقیناً سعودی عرب کے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات زیادہ ہیں جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے ہیں، تو یہ بنیادی وجہ نہیں بنتی کہ تعلقات اچھے نہ ہوں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان اور ایران کی جو ثقافتی جڑیں ہیں وہ اتنی مضبوط ہیں کہ دنیا کی کوئی بھی قوت اسے نہیں ہلا سکتی۔
،سوال: چین نے سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان کے ساتھ مل کر گوادر بندرگاہ کا قیام کیا۔ جیسے ہی پاکستان نے یہ منصوبہ شروع کیا، اسی وقت ایران نے بھی بھارت اور یو اے ای کے ساتھ مل کر چاہ بہار کا منصوبہ شروع کر لیا۔ عام طور پر یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ چاہ بہار منصوبہ پاکستان کی گوادر پورٹ کو ناکام بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا، اس کی کیا حقیقت ہے؟ کیا موجودہ حالات میں یہ منصوبہ بھارت اور یو اے ای کے ساتھ مل کر ہی مکمل ہوگا؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): میں اس حوالے سے دو بنیادی پوائنٹس بتاتا ہوں۔ سب سے پہلے یہ کہ چاہ بہار اور گوادر پورٹ ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ دوست ہیں، اور دوسرا یہ کہ پاکستان گوادر پورٹ کی کپیسٹی کے ساتھ اس کا بھرپور فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ یہ دونوں پورٹس ممالک کو جوڑنے کا ذریعہ ہیں اور ان کے درمیان تعاون کے بہت سارے مواقع موجود ہیں۔ لاجسٹکس، فرانزک اور پورٹس کی جو سروسز ہیں وہ ایک دوسرے کو مکمل کر سکتی ہیں۔ یہ پورٹس پاکستان، چائنا، سینٹرل ایشیا اور یورپ کی مارکیٹس کو آپس میں ملاتی ہیں۔ اگر دونوں پورٹس آپس میں تعاون کریں تو لاجسٹکس کے اخراجات بہت کم ہو سکتے ہیں اور وقت کی بھی بچت ہوگی۔ اس سے ٹرانزٹ اور ریل کے کنکشن مکمل ہو سکتے ہیں اور انرجی کی جو پائپ لائن ہے اس کی سیکیورٹی کی بھی ضمانت ہو جائے گی۔ میرے خیال میں یہ خطہ انرجی کا حب ہو سکتا ہے، جس سے سمندری سیاحت اور معدنیات کو بھی آپس میں فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ہمیں پورٹ کے ٹھیکیدار پر توجہ دینے کے بجائے پورٹس کے مواقع پر توجہ دینی چاہیے۔ چاہ بہار اور گوادر کے درمیان تعاون کے مواقع کوئی چھین نہیں سکتا، یہ موجود ہیں اور اگر ان سے استفادہ نہ کیا جائے تو اس میں دونوں ممالک کا نقصان ہوگا۔
سوال: اس وقت پوری دنیا کی نظریں مشرقِ وسطیٰ پر لگی ہوئی ہیں۔ غزہ اور لبنان میں کشیدگی کے بعد سب کی نظریں آبنائے ہرمز پر ہیں کہ اس بڑے تجارتی راستے کو کھولا جائے۔ ایران کی خواہش ہے کہ یہاں سے جس تجارتی کارگو نے گزرنا ہے وہ فیس ادا کرے، جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ یہ راستہ بغیر کسی فیس کے کھلا رہے۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میدانِ جنگ بنا ہوا ہے اور دنیا بھر میں معاشی خرابی پیدا ہو رہی ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ نے بھی 20 فیصد کارگو فیس لگانے کا اعلان کر کے واپس لے لیا۔ اس ساری صورتحال پر ایران کا کیا موقف ہے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): ایران سالہا سال سے آبنائے ہرمز پر فری سروسز دے رہا تھا، اس وقت ایران کا آبنائے ہرمز پر کردار ریگولیٹری اور سپرویژن (نگرانی) کا ہے اور آنے جانے یعنی گزرنے کے لیے کوئی ٹیرف نہیں تھا۔ تاہم ماحولیاتی حفاظت، کشتیوں کی مینجمنٹ، صفائی اور جہازوں کی آمدورفت پر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کچھ اخراجات ہوتے ہیں، اور ایران ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے گزرنے والے جہازوں سے پیسے لیتا ہے اور وہ رقم آبنائے ہرمز پر ہی خرچ ہوتی ہے۔ ہم نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرح یہ اعلان نہیں کیا کہ یہ آبنائے ٹرمپ ہے؛ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 20 فیصد کارگو فیس لیں گے، جبکہ ہمارے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی صاحب نے جواب دیا تھا کہ ہم انصاف پسند ہیں اور ہم آبنائے ہرمز پر جائز اور کم پیسے لیں گے۔
آپ نے جو کہا کہ امریکہ جب ایران پر حملہ کرتا ہے اور اس کے جواب میں ایران دوسری جگہ جواب دیتا ہے، میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ ایران صرف اسی جگہ کو ٹارگٹ کرتا ہے جہاں سے ہمیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ عرب ممالک کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی سرزمین امریکہ کو دیں جہاں سے وہ ایران پر حملہ کریں۔ حقیقت میں انہیں ہم پر ہونے والے حملوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔ امریکی اڈوں پر ان عرب ممالک کی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے، وہ ان اڈوں میں داخل بھی نہیں ہو سکتے۔ عرب ممالک میں جو ہمارے ہمسائے ہیں انہیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوتی ہے اور انہیں اس کا تاوان ادا کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ آبنائے ہرمز پر آمدورفت کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بن رہا، ہم جہازوں کی آمدورفت پر سیکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں۔
سوال: آبنائے ہرمز کے تجارتی راستے کا ایک بڑا حصہ عمان کی حدود (Omani waters) میں سے گزرتا ہے۔ اگر کوئی جہاز عمان کے راستے گزرتا ہے تو کیا اس پر بھی ایران کو اعتراض ہے؟ کیا اس پر بھی کاروائی کی جائے گی؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): جنگ کے دوران ہم اسے نہیں مانتے۔ ہم سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ امریکن اور اسرائیل اس راستے سے ہماری قومی سلامتی کو چیلنج کرتے ہیں۔ جنگ کے دوران اپنے قوانین ہوتے ہیں اور ہم اپنے ملک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام حفاظتی اقدامات اٹھائیں گے۔ ہم عمان کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ اس حوالے سے ایک نظم و ضبط بنایا جائے۔ جب تک یہ خطرات موجود ہیں، جو راستہ ایران کہتا ہے وہی راستہ چنا جانا چاہیے۔
سوال: پاکستان اور قطر نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور معاہدے کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا جس پر دونوں ممالک نے ضامن کے طور پر دستخط بھی کیے اور 60 روز کے لیے ابتدائی معاہدہ بھی ہوا، لیکن وہ چند دن بعد ہی ختم ہو گیا۔ آخر اس معاہدے کے ختم ہونے کی وجہ کون بنا؟ کیا پاسداران ایران نے یہ معاہدہ توڑا، امریکہ یا اسرائیل نے خلاف ورزی کی تھی؟ کیا پاکستان اور قطر کو دوبارہ اس عمل کا حصہ بننا چاہیے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): پاکستان نے جنگ بندی کے لیے تاریخی کردار ادا کیا، ہمیں اس پر شکریہ ادا کرنا چاہیے لیکن ہمارے لیے عیاں تھا کہ امریکہ اس معاہدے پر عمل نہیں کرے گا۔ اس سے پہلے بھی دو بار ہم ان سے مذاکرات کر رہے تھے کہ اسی دوران انہوں نے ہم پر جنگ مسلط کی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکن کسی عہد و پیماں پر عمل نہیں کرتے۔ ان 60 دنوں کے دوران پہلے 30 دنوں میں ہی امریکہ نے معاہدے کی متعدد خلاف ورزیاں کیں، جبکہ ہم ہمیشہ کی طرح اپنے وعدے پر قائم تھے اور ایران کا کردار بالکل معاہدے کے مطابق تھا۔ لیکن امریکن کو محسوس ہوا کہ وہ جنگ میں شکست کھا چکا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ انہوں نے پاکستان کی کاوشوں کی کوئی قدر نہیں کی اور ہماری پریشانی کا باعث بھی یہی تھا۔ اب پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ وہ کس طرح ایران کے شہروں پر حملہ آور ہیں اور بچوں کے ہسپتالوں اور پانی کے انفراسٹرکچر پر بمباری کر رہے ہیں، وہ امن پر بالکل یقین نہیں رکھتے۔
سوال: رہبرِ معظم اور دیگر اہم عسکری و حکومتی شخصیات کی شہادت کے بعد ایرانی عوام میں شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔ جنازوں کے دوران ‘انتقام’ اور ‘ٹرمپ کے قتل’ جیسے سخت نعرے لگائے گئے۔ ایک طرف عوام کا یہ غصہ ہے دوسری طرف ایران مذاکرات بھی کرتا ہے، یہ تضاد کیسے حل ہوگا؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): رہبرِ معظم کی شہادت کا انتقام ایرانی عوام کا حق ہے۔ امریکن نے ہماری ریڈ لائن کراس کی ہے لہذا ہم بھی ریڈ لائن کراس کریں گے۔ یہ عوامی مطالبہ ہے اور حقوق کے لحاظ سے یہ جنگی جرائم ہیں جن کا عدالت میں انہیں سامنا کرنا ہوگا اور قانون کے سامنے ان کو سزا ملنی چاہیے۔ ہماری عوام اس مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہوگی اور اس کا مذاکرات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہماری امریکہ کے ساتھ جنگ صرف انتقام کی خاطر نہیں ہے بلکہ ہماری جنگ ہماری قومی سلامتی اور دفاع کے لیے ہے، اور ہماری عوامی تحریک کا ایک حصہ یہ ہے کہ جو شہید ہیں ان کا انتقام لیا جائے۔
سوال: آپ نے قانونی راستے اور مقدمات کی بات کی ہے، لیکن ایسا ممکن نہیں لگتا کہ ٹرمپ اور دیگر قوتیں ایران میں آ کر مقدمات کا سامنا کریں۔ اس کے لیے عالمی عدالتِ انصاف موجود ہے، کیا آپ اس عدالت میں جائیں گے اور کیا ایران کو ان عالمی عدالتوں پر اعتماد ہے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): یہ ہماری عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقدمات تیار کریں اور بین الاقوامی عدالت سے رجوع کریں۔ ہم ایسا ملک ہیں جو عالمی قوانین کا پابند ہے اور ہم بین الاقوامی قوانین کو تسلیم کرتے ہیں۔ اگر کوئی دوسرا بین الاقوامی قانون پر عمل نہیں کرتا تو یہ ان کا مسئلہ ہے، لیکن ایران کی حکومت عوامی مطالبے کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ ہمارے رہبرِ انقلاب نے فرمایا تھا کہ جو جنگی جرائم کے مرتکب ہیں وہ طبیعی موت کو بھول جائیں، وہ طبیعی موت کے ساتھ قبر میں نہیں جائیں گے، اور جو دنیا میں آزاد ہیں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر کام کریں۔
سوال: عالمی سطح پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اسرائیل اپنے ‘گریٹر اسرائیل’ نظریے کے تحت پورے مشرقِ وسطیٰ پر تسلط قائم کرنا چاہتا ہے، لیکن اسی طرح کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران بھی اپنے ‘مزاحمتی بلاک’ کے ذریعے عرب ممالک پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس الزام میں کتنی سچائی ہے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): یہ اندازہ بہت بے رحمانہ اور غیر منصفانہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے "گریٹر اسرائیل” کا ایک نقشہ چھاپا ہے جس میں اس نے تمام ہمسایہ ممالک کو شامل کیا ہے اور وہ ان کی سرزمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، وہ کسی قانون کو نہیں مانتے۔ کیا ہم نے کوئی ایسا نقشہ پرنٹ کیا ہے؟ کیا ایران نے ہمسایوں پر حملہ کیا؟ جبکہ اسرائیلیوں نے خود اعلانیہ کہا کہ وہ گریٹر اسرائیل بنانا چاہتے ہیں جس میں لبنان، شام، مصر، عراق اور سعودی عرب جیسے ممالک شامل ہیں۔ اپنے اس منصوبے کی تکمیل میں اسرائیلیوں کے لیے اکیلی رکاوٹ ایران ہے اور ہم عرب کی نمائندگی کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ لڑ رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی انہی عرب ممالک کی سرزمین کے ذریعے ہم پر حملہ کر رہے ہیں۔ لڑائی اور جھگڑے کو ختم کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ امریکہ خلیجی ممالک سے نکل جائے۔
سوال: ایران پر ایک الزام یہ بھی لگتا ہے کہ وہ یمن، عراق اور شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے، اور لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی تحریک کو سپورٹ کرتا ہے۔ ایران ان تنظیموں کے ساتھ اپنے تعلقات کا کس طرح دفاع کرتا ہے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): حزب اللہ اور حوثی تحریک اپنے ممالک میں مستقل سیاسی یونٹ ہیں۔ ہمارے ‘اچھے ہمسائے’ کے اصول پر ہمسایہ ممالک کے یونٹس کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور کوئی بھی سیاسی یونٹ باقاعدہ ایران سے حکم نہیں لیتا۔ ہماری کوشش ہے کہ ہمارے ان ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں، جیسا کہ ہمارے شہید رہبر نے فرمایا تھا کہ یہاں اصل پراکسی اسرائیل ہے اور اسرائیل خطے میں ایک پراکسی کے طور پر لڑ رہا ہے۔
سوال: چین کی ثالثی کے بعد ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد خلیجی ممالک اور بالخصوص عرب دنیا کے ساتھ ایران کے موجودہ تعلقات میں کیا عملی اور مثبت تبدیلیاں آئی ہیں؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): اس وقت جب کہ جنگ اپنے عروج پر پہنچی ہے، ہمارے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی صاحب سعودی عرب، قطر اور دیگر عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ سعودی عرب ایک بڑا ملک ہے اور ہم حقیقت میں چاہتے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہوں، اور دونوں ممالک کی اقتصادی کپیسٹی تمام خطے کے فائدے میں ہو سکتی ہے۔
سوال: جس طرح یورپی یونین کا ایک اتحاد ہے، کیا ایران یہ سمجھتا ہے کہ اسلامی ممالک کو بھی ایک مضبوط اتحاد کی صورت میں اکٹھا ہو جانا چاہیے تاکہ کسی بھی جارحیت کا مل کر مقابلہ کیا جا سکے؟ آپ کی نظر میں وہ کون سا ملک یا عالمی شخصیت ہے جو امتِ مسلمہ کا یہ اتحاد قائم کر سکتی ہے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): یہ علامہ اقبال کی بھی آرزو تھی کہ ایک اسلامی بلاک بنے۔ اس وقت بھی او آئی سی (OIC) کی صورت میں وہ بلاک موجود ہے لیکن افسوس کے ساتھ وہ دوری اور تفرقے کا شکار ہے، اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکن اور اسرائیلی اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔
سوال: اس جنگ میں ایران کی مرکزی عسکری قیادت اور عوام کی بڑی تعداد شہید ہوئی، ملکی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ اس جنگ میں ایران نے مجموعی طور پر کیا کھویا اور کیا پایا؟ اب تک شہادتوں کی کل تعداد اور انفراسٹرکچر کا کتنا نقصان ہوا ہے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہمارے رہبرِ معظم، ہمارے عسکری سپہ سالار اور ہماری عوام تھی۔ میناب اسکول کے 168 طلبہ شہید ہوئے، ان طلبہ کا ایک ایک بال امریکی فورسز سے زیادہ قیمت رکھتا ہے۔ 40 روزہ جنگ کے دوران ہماری بہت سی جگہوں پر بمباری کی گئی؛ 1 لاکھ 23 ہزار گھروں پر بمباری کی گئی، 30 ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، 1200 اسکولوں کی عمارتوں کو تباہ کیا گیا، 8 ریلوے لائنز کو خراب کیا گیا، 30 گائوں پر حملہ ہوا اور پانی کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا گیا جس کی وجہ سے 40 ہزار لوگ پانی کی کمی کا شکار ہوئے۔ اس کے علاوہ 30 جامعات اور 55 لائبریریوں کو نقصان پہنچا۔ اب امریکہ آہستہ آہستہ ایرانی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا رہا ہے، البتہ یہ ان کی پرانی عادت ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ ثقافتی ورثوں پر حملے کیے ہیں اور وہ کسی قانون کو نہیں مانتے۔ ٹرمپ بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گے، جس کے جواب میں ہماری عسکری قیادت نے بھی اعلان کیا ہے کہ اگر ہمارے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا گیا تو وہ بھی خطے کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گے۔
سوال: ایران کے پاس موجودہ جنگ کے حوالے سے کیا معلومات ہیں کہ اس تصادم میں اسرائیل کو کتنا معاشی نقصان ہوا، اور جنگ کے دوران کتنے امریکی و اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): میرے پاس اس بارے میں کوئی حتمی تفصیلات نہیں ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ ان کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ ہمارے اپنے ملک کے نقصانات اور شماریات کی جو تفصیلات تھیں وہ میں نے بتا دیں، یہ امریکہ اور اسرائیل کے جنگی جرائم کے خلاف دستاویزی ثبوت ہیں اور ہماری میڈیا نے ان شماریات کے مطابق سب کچھ دنیا کو دکھایا ہے۔ ایرانی عسکری ادارے اسکول، ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں پر حملہ نہیں کرتے، اس لیے امریکہ اور اسرائیل کے پاس ایسی کوئی تصاویر نہیں ہیں جو وہ دنیا کو دکھا سکیں۔ ہم صرف حکومتی اور سیاسی کمپلیکس یا عسکری جگہوں کو نشانہ بناتے ہیں جن کے بارے ہمارے پاس ٹھوس وجوہات ہوتی ہیں۔
سوال: جنگ کے باعث ایران کا معاشی نقصان ہوا ہے۔ ٹرمپ کے بیانات سے لگتا ہے کہ لڑائی لمبی چلے گی۔ تہران کے پاس کتنے عرصے تک مزاحمت کرنے کے سورسز موجود ہیں اور ایران اس لمبی لڑائی کو کہاں تک لے جا سکتا ہے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): ہم ایک وسیع اور بڑا ملک ہیں اور ہم صرف آبنائے ہرمز پر منحصر نہیں کرتے۔ ہمارے رابطے صرف جنوب کے ساتھ نہیں بلکہ مشرق اور مغرب، ہر اطراف میں موجود ہیں۔ ایران کی آبادی سے 7 گنا زیادہ ہماری خوراک کی پیداوار ہے اور ایک لمبے عرصے کی لڑائی کے لیے ہمارے پاس بھرپور سکت موجود ہے۔ ہماری افواج نے کئی سالوں سے اسی چیلنج کے لیے اپنے آپ کو تیار کیا ہے، اس لیے ہم بالکل بھی پریشان نہیں ہیں کیونکہ امریکن نے ہم پر جارحیت دکھائی اور ہم اپنی سرزمین کا دفاع کر رہے ہیں۔ اگر عرب ممالک کا تعاون نہ ہوتا تو امریکن اس خطے میں داخل ہی نہیں ہو سکتا تھا۔
سوال: مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے ایران کے نزدیک کیا فارمولا ہے؟ کیا تہران دو ریاستی نظریے (Two-State Solution) کو تسلیم کرتا ہے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): ہم دو ریاستی حل کو بالکل نہیں مانتے۔ ہم نے چار مراحل میں مسئلہ فلسطین کے حل اور امن کے قیام کے لیے فارمولا دیا ہے اور اس کے لیے وہاں کی عوام خود ریفرنڈم منعقد کرے، کیونکہ اسرائیلی خود بھی دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتے۔
سوال: گزشتہ کچھ دنوں سے میڈیا میں آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے، آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کے حوالے سے خبریں گردش کرتی رہیں۔ وہ رہبرِ معظم کے جنازوں میں بھی دکھائی نہیں دیے اور ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ان کی صحت 90 فیصد ٹھیک نہیں ہے۔ اس افواہ کی حقیقت کیا ہے؟
جواب (آقائے مہران موحد فر): ان کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے اور جو کچھ ٹرمپ کہہ رہا ہے وہ سراسر جھوٹ ہے۔ دراصل ہماری سیکیورٹی فورسز نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ فی الحال منظرِ عام پر نہ آئیں، اور جیسے ہی سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوگی وہ منظرِ عام پر آ جائیں گے۔

