Table of Contents
واشنگٹن، امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے مصنوعی ذہانت سے متعلق نئی قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے۔
اس بل کا مقصد سپر انٹیلی جنس AI کی تیاری اور استعمال پر مستقل پابندی لگانا ہے۔
بل میں جدید AI کی ترقی پر عارضی وقفے کی تجویز بھی شامل ہے۔
یہ قانون سازی سینیٹر برنی سینڈرز اور رکن کانگریس گریگ کاسار نے پیش کی ہے۔
سپر انٹیلی جنس AI پر پابندی
مجوزہ قانون کا نام Ban Artificial Superintelligence Act رکھا گیا ہے۔
اس کے تحت سپر انٹیلی جنس AI کی تیاری اور استعمال پر مستقل پابندی کی تجویز ہے۔
بل میں ایسے AI نظام کو ہدف بنایا گیا ہے جو انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل سکتے ہیں۔
قانون میں ایسے نظاموں پر بھی توجہ دی گئی ہے جنہیں انسان قابو نہ کر سکیں۔
جدید AI کی ترقی روکنے کی تجویز
بل میں جدید AI کی ترقی پر عارضی وقفے کی بھی تجویز ہے۔
یہ وقفہ اس وقت تک جاری رکھنے کی بات کی گئی ہے جب تک وفاقی ریگولیٹر حفاظتی قواعد وضع نہ کرے۔
سینڈرز کے مطابق AI کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ مؤثر حفاظتی نظام ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بے قابو AI انسانی آزادی اور سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
عالمی معاہدے کی کوشش
مجوزہ قانون امریکا کو بین الاقوامی سطح پر اقدامات کرنے کا بھی پابند کرے گا۔
مقصد دنیا بھر میں سپر انٹیلی جنس کی تیاری روکنے کے لیے معاہدے کرنا ہے۔
سینڈرز کا مؤقف ہے کہ اس معاملے کو صرف امریکا تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔
ان کے مطابق ایسے نظام عالمی سطح پر بڑے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
گریگ کاسار کا مؤقف
رکن کانگریس گریگ کاسار بھی اس قانون سازی کے حامی ہیں۔
انہوں نے AI کے موجودہ ضابطہ جاتی نظام پر سوال اٹھایا ہے۔
کاسار کے مطابق مصنوعی ذہانت بعض بنیادی کاروباری سرگرمیوں کے مقابلے میں بھی کم ریگولیٹڈ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ طاقتور AI نظاموں کے لیے مؤثر نگرانی ضروری ہے۔
AI ریگولیشن پر بڑھتی بحث
امریکا میں AI کی نگرانی اور ریگولیشن پر بحث تیز ہو رہی ہے۔
ایک طرف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکام کی بڑی تعداد AI کی ترقی پر زور دے رہی ہے۔
دوسری جانب قانون ساز ممکنہ خطرات پر سخت نگرانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سینڈرز کا نیا بل اسی جاری بحث میں ایک سخت تر قانونی تجویز کے طور پر سامنے آیا ہے۔
