کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کیوبا کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو اس کے نتیجے میں شدید خونریزی ہو سکتی ہے اور پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔
کیوبا کے صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا ملک امریکا کے لیے کوئی خطرہ نہیں، تاہم اگر حملہ مسلط کیا گیا تو Cuba بھرپور دفاع اور جوابی کارروائی کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ کیوبا نے 300 سے زائد فوجی ڈرون حاصل کیے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر Guantanamo Bay Naval Base اور دیگر اہداف کے خلاف استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
کیوبا نے ان الزامات کو “من گھڑت” قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ واشنگٹن ایک ایسا بیانیہ تیار کر رہا ہے جسے مستقبل میں ممکنہ فوجی کارروائی کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
کیوبا کے وزیر خارجہ نے بھی کہا کہ ہر خودمختار ریاست کی طرح کیوبا کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر Donald Trump نے حالیہ دنوں میں طنزیہ انداز میں اشارہ دیا تھا کہ امریکی بحریہ مشرق وسطیٰ سے واپسی پر کیوبا کے خلاف بھی کارروائی کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ہوانا میں شہریوں نے ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ کیوبا اس وقت شدید معاشی اور توانائی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ امریکی پابندیوں اور ایندھن کی قلت نے ملک میں بجلی اور تیل کی فراہمی کو مزید متاثر کیا ہے۔
