اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے بنوں میں ہونے والے دہشت گرد حملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، جبکہ پاکستان نے ایک بار پھر افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں فتح خیل پولیس چوکی پر ہونے والے حملے کے بعد افغان سفارت کار کو ڈی مارش دیا گیا۔ اس حملے میں پندرہ پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات، شواہد اور تکنیکی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر نے کی۔ پاکستان نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
بیان میں کہا گیا کہ حملے کے بعد امدادی کارروائی کے لیے پہنچنے والے اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے دہشت گردوں کی منظم منصوبہ بندی واضح ہوتی ہے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مشترکہ ذمہ داری ہے اور افغان حکام کو اپنے وعدوں کے مطابق مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی افغان سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر اور داعش خراسان کے خلاف فوری اور قابلِ تصدیق کارروائی کی جائے تاکہ خطے میں امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
