خاتم الانبیا بریگیڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ایرانی فوج “فوری، فیصلہ کن اور وسیع پیمانے” پر جوابی کارروائی کرے گی۔
ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور “ٹریگر دبانے” میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی جائے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ خلیجی رہنماؤں کی درخواست پر ایران کے خلاف منصوبہ بند امریکی حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے تاکہ مذاکرات کو موقع دیا جا سکے۔
دوسری جانب محسن رضائی، جو ایرانی قومی سلامتی کونسل کے رکن اور سابق پاسداران انقلاب کمانڈر ہیں، نے بھی امریکی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ “خام خیالی” ہے کہ ایرانی قوم یا افواج ہتھیار ڈال دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج اور عوام کا “فولادی مکہ” کسی بھی مخالف کو پسپائی پر مجبور کر سکتا ہے، جبکہ امریکی دھمکیوں کو نفسیاتی دباؤ کی کوشش قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی اگرچہ سفارتی رابطوں کے باوجود برقرار ہے، تاہم دونوں جانب سخت بیانات اور عسکری تیاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
