Table of Contents
واشنگٹن: امریکی فوج نے ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یکم ستمبر کو تقریباً 60 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں 40 تجارتی بحری جہازوں کو بھی محفوظ راستہ فراہم کیا۔
امریکی فوج کے مطابق ان جہازوں پر تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ بیرل تیل لدا تھا۔
ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
امریکی فوج کے مطابق کارروائی میں مختلف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ان اہداف میں فضائی دفاعی نظام بھی شامل تھے۔
ریڈار اور بحری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حکام نے بارودی سرنگوں سے متعلق صلاحیتوں کو بھی ہدف بنانے کا دعویٰ کیا۔
مواصلاتی مراکز بھی امریکی کارروائی کا حصہ تھے۔
ڈرون حملوں کا مقابلہ
امریکی فوج نے کہا کہ فورسز نے بحری جہازوں کی حفاظت کی۔
اس دوران ایرانی ڈرون حملوں کا بھی مقابلہ کیا گیا۔
امریکی فورسز نے بعض اینٹی شپ کروز میزائلوں کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔
امریکا کے مطابق کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو محفوظ رکھنا تھا۔
ایرانی اہلکاروں کی ہلاکتیں
ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی یکم ستمبر کے حملوں میں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔
تسنیم کے مطابق حملوں میں 21 افراد شہید ہوئے۔
ان میں 6 نیوی اہلکار اور 3 پائلٹس بھی شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق 140 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔
تسنیم نے لارک میں جاں بحق اہلکاروں کی نماز جنازہ اور تدفین کی بھی خبر دی۔
ہلاکتوں کی تعداد پر مختلف دعوے
ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایرانی حکام کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار رپورٹ کیے۔
نام ظاہر نہ کرنے والے حکام کے مطابق 14 فوجی اور نیم فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔
ان حکام کے مطابق 108 افراد زخمی بھی ہوئے۔
دونوں رپورٹس میں ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد مختلف ہیں۔
شادی کی تقریب پر حملے کا الزام
جنوبی ایران کے علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب بھی متاثر ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری جاں بحق ہوئے۔
درجنوں افراد کے زخمی ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 4 ہلاکتوں کی خبر سامنے آئی تھی۔
ابتدائی رپورٹ میں 60 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
امریکی فوج کے مطابق کارروائیوں کا ہدف ایرانی فوجی صلاحیتیں تھیں۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
جنگ سے پہلے یہاں سے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل گزرتا تھا۔
حالیہ تنازع نے اس اہم بحری راستے پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
امریکی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان پہلے بھی براہِ راست فوجی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔
حالیہ پیش رفت نے وسیع علاقائی تنازع کے خدشات دوبارہ بڑھا دیے ہیں۔
