کابل: افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (UNAMA) نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان سرحدی علاقوں میں کی گئی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 28 شہری ہلاک اور 49 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ زخمیوں کی حالت کے پیش نظر ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یوناما نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ ہسپتالوں میں زیر علاج زخمیوں کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرحدی پٹی میں زمینی اور فضائی کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر کم از کم 29 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق کارروائیوں کا ہدف دہشت گرد عناصر تھے اور ان کے ٹھکانوں کے ساتھ بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ افغان صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 25 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع باجوڑ میں زمینی کارروائی کے دوران جماعت الاحرار سے وابستہ مزید چار جنگجو بھی مارے گئے۔
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک جماعت الاحرار نے بھی اپنے ایک کمانڈر خان فیروز عرف زابل کی باجوڑ میں ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں میں عام شہری نشانہ بنے ہیں۔ افغان حکومت کے ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق ان کارروائیوں میں خواتین اور بچوں سمیت 38 شہری جاں بحق اور 163 زخمی ہوئے۔
افغان حکام کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان صوبہ پکتیا کے ضلع سمکانی میں ایک رہائشی مکان پر فضائی حملے کے نتیجے میں ہوا، جہاں 28 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 158 زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ یہ رواں سال افغانستان کے اندر پاکستان کی دوسری فضائی کارروائی ہے، جس کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان مسلسل افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسند گروپوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی ایک اندرونی مسئلہ ہے۔
