Table of Contents
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں یادگارِ فتح کا افتتاح کر دیا۔
یہ یادگار معرکہ حق میں حاصل ہونے والی کامیابی کی یاد میں تعمیر کی گئی ہے۔


افتتاحی تقریب میں سول اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ تقریب میں قومی جذبے اور حب الوطنی کا اظہار بھی کیا گیا۔
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد یادگارِ فتح کی تعمیر سے متعلق ویڈیو پیش کی گئی۔
بعد ازاں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے یادگار کا افتتاح کیا۔
تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔ چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وزیر دفاع اور وزیر خارجہ بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
صدر زرداری کا یادگارِ فتح کی اہمیت پر اظہار خیال
صدر مملکت آصف علی زرداری نے تقریب سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی۔
ان کے مطابق یادگارِ فتح کامیابی اور شہدا و غازیوں کی قربانیوں کی علامت ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان امن کے عمل میں عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا۔
انہوں نے فلسطین اور غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
صدر زرداری کے مطابق غزہ میں انسانی جانوں کا ضیاع قابل قبول نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا امن اور دفاع پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان خطے میں استحکام کی علامت بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کو نئے تنازعات سے محفوظ دیکھنا چاہتا ہے۔
شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے کردار کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پر بھی پاکستان کے مؤقف کو واضح قرار دیا۔
پاکستان کی علاقائی امن کے لیے کوششیں
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کرنے والوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات مزید مضبوط ہونے کی امید ہے۔
انہوں نے پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کا بھی ذکر کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ قومی اتحاد پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کا جواب دیا جائے گا۔
220 فٹ بلند پاکستانی پرچم کی پرچم کشائی
یادگارِ فتح کی تقریب کے موقع پر 14 اگست کی مناسبت سے پرچم کشائی بھی کی گئی۔
یادگارِ فتح کے مقام پر پاکستان کا 220 فٹ بلند قومی پرچم لہرایا گیا۔
سول اور عسکری قیادت نے پرچم کشائی کی۔
اس موقع پر قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبات کا اظہار کیا گیا۔
مسلح افواج اور پولیس دستوں کی شرکت
تقریب میں مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کے دستے بھی شریک ہوئے۔
پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے پولیس دستوں نے بھی شرکت کی۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی پولیس کے دستے بھی تقریب میں موجود تھے۔
تقریب میں وفاقی وزرا، سروسز چیفس اور غیر ملکی سفارت کار بھی شریک ہوئے۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
صدر زرداری کو یادگار کا تحفہ پیش
تقریب کے اختتام پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صدر آصف علی زرداری کو یادگارِ فتح کا تحفہ پیش کیا۔
یادگارِ فتح کو قومی کامیابی، قربانی اور دفاع وطن کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔
