پیرس: فرانس کی سینیٹ نے الٹرا فاسٹ فیشن کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات پر مبنی ایک اہم بل منظور کر لیا ہے، جس کا بنیادی مقصد شین (Shein)، تیمو (Temu) اور علی ایکسپریس (AliExpress) جیسے آن لائن ریٹیل پلیٹ فارمز کی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی بحث کے بعد منظور کیے گئے اس نظرثانی شدہ بل میں یورپی یونین کے قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد ترامیم شامل کی گئی ہیں۔ اب یہ بل حتمی منظوری کے لیے فرانس کے صدر کے دستخط کا منتظر ہے، جس کے بعد اسے باقاعدہ قانون کی حیثیت حاصل ہوگی۔
بل کے مطابق الٹرا فاسٹ فیشن کمپنیوں پر فی پروڈکٹ 0.25 یورو سے 6 یورو تک ماحولیاتی جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جبکہ 2030 تک یہ جرمانہ بڑھا کر 10 یورو فی مصنوعات تک کیا جا سکتا ہے۔
قانون میں ان کمپنیوں کے اشتہارات پر بھی پابندی کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو بھی ان برانڈز کی تشہیر کرنے سے روکا جائے گا۔
فرانس کے وزیر برائے چھوٹے کاروبار سرج پاپین نے سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا مقصد صرف ملبوسات کی صنعت کو منظم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے سماجی اور معاشی ماڈل کا تحفظ بھی ہے جو پائیدار پیداوار اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الٹرا فاسٹ فیشن انڈسٹری مارکیٹ کو ایسے سستے کپڑوں سے بھر رہی ہے جو چند ہفتوں کے استعمال کے بعد ضائع کر دیے جاتے ہیں، جس سے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب شین نے اس قانون پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بل کی بعض شقیں یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز اور ای کامرس قوانین سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ کمپنی نے عندیہ دیا کہ وہ قانونی پہلوؤں کا مزید جائزہ لے رہی ہے۔
ادھر تیمو اور علی ایکسپریس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ یورپی کمیشن نے بھی اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
واضح رہے کہ فرانس کی قومی اسمبلی نے اس قانون کا ابتدائی مسودہ مارچ 2024 میں منظور کیا تھا، جبکہ سینیٹ نے جون 2025 میں اس میں مزید ترامیم شامل کیں تاکہ ان اقدامات کا اطلاق روایتی ریٹیل کمپنیوں کے بجائے بنیادی طور پر آن لائن الٹرا فاسٹ فیشن پلیٹ فارمز پر کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ قانون نافذ ہو جاتا ہے تو فرانس الٹرا فاسٹ فیشن کے خلاف قانون سازی کرنے والا دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہو جائے گا، جس سے یورپ میں ای کامرس اور فیشن انڈسٹری پر بھی دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
