Table of Contents
جنیوا: افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے باعث خواتین کی نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت مزید محدود ہوگئی ہے۔
اقوام متحدہ کی خواتین کے مطابق نصف افغان خواتین اب مہینے میں صرف ایک یا دو بار گھر سے باہر نکلتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی نے یہ اعداد و شمار بدھ کو جاری کیے۔
رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طالبان اپنے دوبارہ اقتدار میں آنے کی پانچویں سالگرہ کی تیاری کر رہے ہیں۔
خواتین کی نقل و حرکت محدود
اقوام متحدہ کی خواتین کے مطابق پابندیوں نے افغان خواتین کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
سروے میں نصف سے زیادہ خواتین نے بتایا کہ وہ مہینے میں دو بار یا اس سے بھی کم گھر سے نکلتی ہیں۔
تقریباً تین چوتھائی خواتین نے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کی۔
ان خواتین کے مطابق محرم، یعنی مرد سرپرست کے بغیر گھر سے باہر نکلنا غیر محفوظ محسوس ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کی خواتین نے کہا کہ یہ پابندیاں خواتین کی آزادی اور عوامی زندگی میں شرکت کو محدود کر رہی ہیں۔
افغان لڑکیوں کی تعلیم بھی متاثر
اقوام متحدہ کی خواتین نے افغانستان کی صورتحال کو خواتین کے حقوق کا سنگین بحران قرار دیا ہے۔
ایجنسی کے مطابق طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد خواتین اور لڑکیوں کے خلاف 100 سے زیادہ احکامات جاری کیے گئے۔
ان اقدامات نے خواتین کے حقوق پر مزید پابندیاں عائد کی ہیں۔
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے نے بھی منگل کو ایک رپورٹ جاری کی۔
یونیسکو کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد 2.4 ملین افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہوچکی ہیں۔
افغانستان اس وقت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی ہے۔
خواتین کے یونیورسٹی جانے پر بھی پابندی عائد ہے۔
خواتین کی ذہنی صحت پر اثرات
اقوام متحدہ کی خواتین نے پابندیوں کے ذہنی صحت پر اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔
ایجنسی کے مطابق 10 میں سے 7 خواتین نے اپنی ذہنی صحت کو خراب یا بہت خراب قرار دیا۔
خواتین نے تنہائی اور مواقع سے محرومی کو اہم مسائل میں شمار کیا۔
سپورٹ نیٹ ورکس تک محدود رسائی نے بھی صورتحال کو مزید مشکل بنایا ہے۔
قانونی حقوق مزید محدود ہونے کا خدشہ
اقوام متحدہ کی خواتین کے مطابق حالیہ احکامات نے خواتین کے قانونی تحفظات کو مزید کمزور کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال متعارف کرائے گئے اقدامات نے مردوں اور خواتین کے درمیان قانونی مساوات کو متاثر کیا۔
ان اقدامات نے شادی میں مردوں کے اختیار کو بھی مضبوط کیا ہے۔
خواتین کے لیے طلاق حاصل کرنا بھی مزید مشکل بنایا گیا ہے۔
ایجنسی نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خواتین کے قانونی حقوق کو مزید محدود کرسکتے ہیں۔
خواتین کی معاشی شرکت انتہائی کم
افغان خواتین کی معاشی سرگرمی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کی خواتین کی رپورٹ کے مطابق صرف 7 فیصد افغان خواتین ملازمت کرتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں 84 فیصد افغان مرد ملازمت کرتے ہیں۔
اعداد و شمار خواتین کی معاشی شرکت میں نمایاں فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔
ایجنسی کے مطابق پابندیوں نے خواتین کے روزگار اور معاشی مواقع کو محدود کردیا ہے۔
طالبان کا مؤقف
طالبان حکومت نے خواتین کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے مؤقف سے اختلاف کیا ہے۔
وزارت برائے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ترجمان سیف الاسلام خیبر نے رائٹرز کو بتایا کہ خواتین کے غیر محفوظ محسوس کرنے کی اطلاعات درست نہیں۔
ان کے مطابق افغانستان میں خواتین کو اپنے تمام حقوق حاصل ہیں۔
انہوں نے ملک میں موجودہ صورتحال کو گزشتہ کئی دہائیوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ قرار دیا۔
طالبان کا مؤقف ہے کہ وہ اسلامی قانون اور افغان ثقافت کی اپنی تشریح کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔
رپورٹ کیسے تیار کی گئی؟
اقوام متحدہ کی خواتین نے اپنی رپورٹ کے لیے مختلف سروے استعمال کیے۔
ایجنسی کے مطابق فروری اور مارچ 2025 میں 2,190 افراد کا گھر گھر سروے کیا گیا۔
اپریل اور مئی 2026 میں مزید 2,811 افراد کا ٹیلی فون سروے بھی کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی خواتین کے مطابق ان سرویز کے نتائج افغانستان میں خواتین کی موجودہ صورتحال کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
