Table of Contents
برسلز: بیلجیم نے منجمد روسی اثاثوں کے استعمال کے معاملے پر اپنا موقف برقرار رکھا ہے۔
بیلجیم کے وزیر خارجہ میکسم پریوٹ نے بدھ کو اس کی تصدیق کی۔
انہوں نے کہا کہ روسی اثاثوں کے استعمال سے متعلق بیلجیم کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
یورپی ممالک نے بحث دوبارہ شروع کردی
نیدرلینڈز، پولینڈ، اسپین اور سویڈن نے گزشتہ ہفتے ایک تجویز پیش کی تھی۔
چاروں ممالک نے یورپی یونین سے روس کے منجمد اثاثوں کے استعمال پر غور کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان ممالک کا مقصد ان فنڈز کو یوکرین کی مدد کے لیے استعمال کرنا ہے۔
کچھ یورپی وزرا نے بدھ کو بھی اس تجویز کی حمایت کی۔
انہوں نے آئرلینڈ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے غیر رسمی اجلاس میں یہ معاملہ اٹھایا۔
بیلجیم نے ضبطی کے خطرات سے خبردار کردیا
وزیر خارجہ میکسم پریوٹ نے اجلاس کے بعد اپنے موقف کی وضاحت کی۔
انہوں نے کہا کہ چار یورپی ممالک کی کوشش سے یہ بحث دوبارہ شروع ہوئی۔
تاہم، ان کے مطابق دیگر یورپی وزرا میں اس تجویز کے لیے زیادہ جوش نظر نہیں آیا۔
پریوٹ نے کہا کہ بیلجیم کا موقف ایک سال سے تبدیل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اس موقف کی بنیادی وجوہات اب بھی موجود ہیں۔
روسی اثاثوں کی ضبطی پر تحفظات
بیلجیم کے وزیر خارجہ نے روسی اثاثوں کے استعمال پر اہم خطرات کی نشاندہی کی۔
ان کے مطابق ضبطی کے عمل کے ذریعے ان اثاثوں کو استعمال کرنا سنگین خطرات پیدا کرسکتا ہے۔
بیلجیم اسی وجہ سے روسی منجمد اثاثوں کی براہ راست ضبطی کی مخالفت کر رہا ہے۔
یوکرین کی مدد کے لیے متبادل راستے
یورپی یونین میں روسی اثاثوں کے مستقبل پر بحث جاری ہے۔
کئی ممالک یوکرین کے لیے مزید مالی مدد چاہتے ہیں۔
تاہم، روسی اثاثوں کے استعمال کا قانونی اور مالی پہلو اب بھی اہم سوال بنا ہوا ہے۔
بیلجیم نے واضح کردیا ہے کہ وہ موجودہ موقف میں فوری تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتا۔
