Table of Contents
جنوبی کوریا مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں فوجی اثاثے تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ مقامی میڈیا نے سرکاری اور عسکری ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن کی آزادی کے تحفظ میں کردار ادا کرنا ہے۔ حکومت رواں سال کے اختتام سے پہلے ممکنہ تعیناتی پر غور کر رہی ہے۔
پارلیمانی منظوری کا امکان
جنوبی کوریا کے متعدد میڈیا اداروں نے ممکنہ تعیناتی سے متعلق حکومتی اقدامات کی رپورٹ دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومت پارلیمانی منظوری کے لیے طریقہ کار تیار کر رہی ہے۔ اس عمل میں کابینہ کا جائزہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت رواں ماہ پارلیمان میں منظوری کی تحریک پیش کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
مختلف فوجی آپشنز زیر غور
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی کوریا ممکنہ تعیناتی کے لیے کئی آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔
ان میں سمندری گشت کرنے والا طیارہ شامل ہے۔ لاجسٹک سپورٹ ویسل بھی ایک ممکنہ آپشن ہے۔
حکومت بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے اور انہیں صاف کرنے والے یونٹ کی تعیناتی پر بھی غور کر رہی ہے۔
سیول امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر ممالک کے ساتھ ممکنہ تعاون پر بھی بات کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا نے حتمی فیصلے کی تردید کر دی
جنوبی کوریا کے صدارتی بلیو ہاؤس نے ان رپورٹس پر وضاحت جاری کی ہے۔
حکام کے مطابق سیول آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن کی آزادی میں کردار ادا کرنے کے عملی طریقوں پر غور کر رہا ہے۔
تاہم بلیو ہاؤس نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فوجی تعیناتی کا حتمی فیصلہ کیے جانے کی رپورٹس درست نہیں ہیں۔
ٹرمپ کا جنوبی کوریا سے متعلق بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں جنوبی کوریا کے حوالے سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کی تھی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کو جزوی طور پر روک دیا ہے۔
انہوں نے اس اقدام کی ایک وجہ جنوبی کوریا کا ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد سے انکار بتایا تھا۔
اب جنوبی کوریا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ممکنہ کردار کی اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خطے میں بحری آمدورفت اور سیکیورٹی کا معاملہ عالمی توجہ کا مرکز ہے۔
