اسرائیل اور لبنان جنوبی لبنان سے اسرائیلی زمینی افواج کے محدود انخلا کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں، جس پر جلد باضابطہ دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ امریکی ثالثی میں واشنگٹن میں جاری مذاکرات کے دوران دونوں فریقوں نے کئی روز کی بات چیت کے بعد اس پیش رفت پر اتفاق کیا۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم اپنے تقریباً چھ میل طویل بفر زون کے اندر موجود دو مخصوص علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرے گی۔ ان علاقوں میں اسرائیلی فوج کی جگہ لبنانی مسلح افواج تعینات کی جائیں گی۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ان علاقوں کو پہلے ہی حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے اور تنصیبات سے خالی کرایا جا چکا ہے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ سرحدی علاقوں میں موجود متعدد دیہات ماضی میں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور لانچنگ کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔
یہ فریم ورک معاہدہ واشنگٹن میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے پانچویں دور کے چوتھے روز طے پایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ میں معاہدے پر دستخط کی ایک مختصر تقریب بھی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ دونوں فریقوں پر جلد کسی مفاہمت تک پہنچنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہا تھا۔ اگرچہ مذاکرات کا یہ دور جمعرات کو مکمل ہونا تھا، تاہم اختلافات ختم کرنے کے لیے بات چیت کا دورانیہ بڑھانا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے دوران اسرائیلی حکومت نے گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر تحفظات کا اظہار کیا، جس میں لبنان میں جنگ بندی سے متعلق نکات بھی شامل تھے۔ اسرائیل کا مؤقف تھا کہ اس پیش رفت سے لبنان کے حوالے سے جاری براہ راست مذاکرات کی اہمیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی سفارتی حکمت عملی کے باعث اسرائیل نے ابتدا میں جنوبی لبنان سے انخلا کے حوالے سے اپنا مؤقف سخت کیا اور ان علاقوں کی تعداد محدود رکھی جہاں سے فوجی انخلا پر آمادگی ظاہر کی گئی۔
دوسری جانب لبنانی مذاکرات کاروں نے بھی مذاکرات میں نسبتاً سخت مؤقف اختیار کیا اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے ایسے نقشے پیش کیے جن میں اسرائیلی افواج کے زیادہ وسیع پیمانے پر انخلا کی تجویز دی گئی تھی، تاہم ان تجاویز پر فوری اتفاق نہیں ہو سکا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس فریم ورک معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ جنوبی لبنان میں کشیدگی کم کرنے، لبنانی فوج کی تعیناتی بڑھانے اور سرحدی علاقوں میں استحکام پیدا کرنے کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
