Table of Contents
صنعا: یمن کے حوثی گروپ پر باب المندب میں سعودی آئل ٹینکر پر حملے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حملے میں عملے کے 3 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق حکومت سے وابستہ الجمہوریہ ٹی وی نے منگل کو واقعے کی اطلاع دی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق افراد میں 2 پاکستانی اور ایک انڈونیشین شہری شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملے میں ایک سعودی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم واقعے سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
حملے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی
الجمہوریہ ٹی وی نے جاں بحق افراد کی قومیت کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ان کے نام اور عہدوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
حوثی گروپ نے بھی فوری طور پر حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
اس وجہ سے حملے کی ذمہ داری کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
باب المندب اہم بحری راستہ ہے
باب المندب بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں واقع ایک اہم آبنائے ہے۔ یہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔
اس گزرگاہ سے بحری جہاز بحیرہ احمر میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد وہ نہر سویز کے راستے یورپ تک پہنچ سکتے ہیں۔
باب المندب کی اہمیت کے باعث یہاں کسی بھی حملے سے عالمی جہاز رانی متاثر ہوسکتی ہے۔
حوثیوں کے حملوں کا پس منظر
بحیرہ احمر اور باب المندب میں ماضی میں بھی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حوثی گروپ نے خطے میں مختلف بحری جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان واقعات کے باعث عالمی شپنگ کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کئی کمپنیوں نے خطرات کے باعث بحیرہ احمر کے بجائے متبادل سمندری راستے استعمال کیے ہیں۔
عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات
باب المندب میں نئے حملے سے بحری جہازوں کی سکیورٹی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ عالمی تجارتی راستوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی کے باعث کسی نئے بحری حملے کے اثرات مزید وسیع ہوسکتے ہیں۔
تاہم حالیہ واقعے کی مکمل تفصیلات اور حملے کی ذمہ داری سے متعلق مزید معلومات کا انتظار ہے۔
