Table of Contents
انقرہ: ترک پارلیمنٹ نے کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے تنازع کو ختم کرنے کے لیے اہم بل منظور کر لیا ہے۔
یہ قانون کئی دہائیوں سے جاری مسلح تنازع کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس تنازع میں 40 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ترک پارلیمنٹ میں بل منظور
قانون کو 468 ارکان نے ووٹ دے کر منظور کیا۔ مخالفت میں 88 ووٹ آئے۔
چھ ارکان ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔
یہ قانون PKK کو غیر مسلح کرنے کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد امن عمل کو اگلے مرحلے تک لے جانا ہے۔
سابق جنگجوؤں کی واپسی
نئے قانون میں سابق PKK جنگجوؤں کی معاشرے میں واپسی کا راستہ رکھا گیا ہے۔
کچھ جنگجوؤں کو مخصوص قانونی تحفظ بھی مل سکتا ہے۔ بعض سزاؤں کو معطل یا مؤخر کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔
تاہم یہ سہولت ہر فرد کے لیے نہیں ہوگی۔ جان بوجھ کر قتل کے مجرم اس قانون کے دائرے سے باہر رہیں گے۔
ہتھیار ڈالنے کی شرط
قانون پر عمل درآمد PKK کے مکمل غیر مسلح ہونے سے منسلک ہے۔
ترک حکام اس عمل کی تصدیق کریں گے۔ اس کے بعد قانون میں دی گئی سہولیات پر عمل ہوگا۔
چار دہائیوں پرانا تنازع
PKK نے 1984 میں ترکیہ کے خلاف مسلح کارروائی شروع کی تھی۔
اس کے بعد ترکیہ میں کئی دہائیوں تک شدید لڑائی جاری رہی۔ اس تنازع نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا۔
PKK نے 2025 میں مسلح جدوجہد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد تنظیم نے غیر مسلح ہونے کے عمل کی جانب پیش رفت کی۔
امن عمل میں اہم پیش رفت
ترک حکومت اس عمل کو ’’دہشت سے پاک ترکیہ‘‘ کے منصوبے کا حصہ قرار دیتی ہے۔
کرد سیاسی قوتوں نے بھی قانون کو اہم قدم قرار دیا ہے۔ تاہم ان کی جانب سے مزید سیاسی اور جمہوری اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
نئے قانون سے ترکیہ میں طویل تنازع ختم کرنے کی کوششوں کو قانونی بنیاد مل گئی ہے۔
اب اگلا مرحلہ PKK کے مکمل غیر مسلح ہونے اور قانون پر عملی عمل درآمد سے جڑا ہوگا۔
