چین کے صدر شی جن پنگ شمالی کوریا کے سرکاری دورے کے اختتام کے بعد منگل کی دوپہر بیجنگ واپس پہنچ گئے۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
صدر شی جن پنگ کے ہمراہ واپس آنے والے وفد میں ان کی اہلیہ پنگ لی یوان، چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹ بیورو کی قائمہ کمیٹی کے رکن سائی چی اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی بھی شامل تھے۔ تمام اعلیٰ حکام خصوصی پرواز کے ذریعے بیجنگ واپس پہنچے۔
رپورٹس کے مطابق شی جن پنگ نے دورۂ شمالی کوریا کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر باہمی مفادات کے مختلف امور اور خطے کی مجموعی صورتحال بھی زیرِ غور آئی۔
مبصرین کے مطابق یہ دورہ چین اور شمالی کوریا کے درمیان روایتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ تھا۔ دونوں ممالک حالیہ برسوں میں سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعاون کو وسعت دینے کے لیے مسلسل رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس دورے کے نتائج نہ صرف چین اور شمالی کوریا کے دوطرفہ تعلقات بلکہ مشرقی ایشیا کی علاقائی سیاست اور سلامتی کی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
