واشنگٹن، امریکہ میں یوکرین کی سفیر اولہا سٹیفانیشینا (Olha Stefanishyna) نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں کے باوجود یوکرین کو فوری طور پر نئے اینٹی بیلسٹک میزائل درکار ہیں تاکہ آئندہ موسم سرما سے قبل روسی حملوں کا مؤثر دفاع کیا جا سکے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوکرین کو امید ہے کہ جنگ بندی کے لیے جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج دے سکتی ہیں، تاہم روس کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملوں میں مسلسل اضافے کے باعث ملک کی دفاعی ضروریات بھی بڑھ گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یوکرین، امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ساتھ پیٹریاٹ PAC-3 میزائل مقامی سطح پر تیار کرنے کے لائسنس کے حصول پر بات چیت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں ایک سے پانچ سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
اولہا سٹیفانیشینا نے کہا کہ یوکرین امریکی ساختہ PAC-3 میزائلوں کی طویل مدتی خریداری اور پیداوار کی فراہمی کے نظام میں ترجیحی رسائی کے لیے بھی مذاکرات کر رہا ہے تاکہ فضائی دفاعی صلاحیت میں جلد اضافہ کیا جا سکے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ریتھیون کے ماہرین پہلے ہی یوکرین کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ لاک ہیڈ مارٹن بھی اپنے تکنیکی ماہرین کی ایک ٹیم یوکرین بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ فضائی دفاعی نظام سے متعلق تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں روس ہر رات درجنوں بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے، جن کے تباہ کن اثرات یوکرین کے لیے شدید چیلنج بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ یوکرین روسی اور ایرانی ساختہ ڈرونز کو بڑی حد تک ناکام بنانے میں کامیاب رہا ہے، لیکن بیلسٹک میزائلوں کے خلاف مؤثر دفاع اب بھی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم نے کئی شعبوں میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن اس موسم سرما کے لیے ہمیں فوری طور پر مزید میزائلوں کی ضرورت ہے۔”
سفیر نے بتایا کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے حالیہ وائٹ ہاؤس ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے اور روس کے خلاف دفاعی تعاون میں اضافے پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ممکنہ دورۂ کیف پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔
اولہا سٹیفانیشینا نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہوں نے امریکہ میں یوکرین کی سفیر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے تاکہ ذاتی اثاثوں سے متعلق بدعنوانی کے الزامات کے خلاف اپنے ملک واپس جا کر قانونی دفاع کر سکیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صدر زیلنسکی نے ان سے استعفیٰ طلب نہیں کیا تھا اور نہ ہی انہیں عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا۔

