ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے قائم مقام کمانڈر احمد وحیدی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ عوامی سطح پر منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔
احمد وحیدی تہران میں سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں شریک ہوئے، جہاں اعلیٰ حکومتی، عسکری اور مذہبی شخصیات بھی موجود تھیں۔
ایرانی حکام اس وقت سابق سپریم لیڈر کی سرکاری تدفین کی تیاریاں مکمل کر رہے ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد ملک بھر میں سوگ کی تقریبات جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سابق سپریم لیڈر کا تابوت جمعرات کی شام جنوبی تہران میں واقع امام خمینی حسینیہ کے قریب قائم تعزیتی مقام پر پہنچایا گیا، جہاں حکومتی عہدیداروں، عسکری قیادت اور مختلف ریاستی اداروں کے نمائندوں نے حاضری دے کر خراجِ عقیدت پیش کیا۔
احمد وحیدی کی یہ عوامی موجودگی حالیہ کشیدہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ جنگ کے آغاز کے بعد وہ پہلی مرتبہ کسی سرکاری تقریب میں دکھائی دیے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق سابق سپریم لیڈر کی آخری رسومات کے مختلف مراحل آئندہ چند روز تک جاری رہیں گے، جن میں ملکی اور غیر ملکی وفود کی شرکت بھی متوقع ہے۔
