Table of Contents
معروف بھارتی یوگا گرو بابا رام دیو نے طلبہ کے احتجاج اور سرکاری ملازمتوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے بھارتی حکومت کو مسائل فوری حل کرنے کا مشورہ دیا۔ رام دیو نے خبردار کیا کہ تاخیر سے احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رام دیو نے پتنجلی میں صحافیوں سے گفتگو کی۔ یہ گفتگو بھارت کے 80 ویں یومِ آزادی کے موقع پر ہوئی۔
تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان
رام دیو نے کہا کہ بھارت کے کئی اسکولوں اور کالجوں میں بنیادی سہولتیں موجود نہیں۔
ان کے مطابق بعض اداروں میں اساتذہ کی کمی ہے۔ کئی مقامات پر بجلی اور پانی کی سہولت بھی دستیاب نہیں۔
انہوں نے بیت الخلاء کی مناسب سہولت نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی۔ رام دیو نے امتحانات میں نقل کی شکایات کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق بعض علاقوں میں امتحانی پرچے لیک ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
سرکاری ملازمتوں میں بدعنوانی کا الزام
رام دیو نے سرکاری ملازمتوں کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے انتخابی عمل میں مبینہ بدعنوانی اور رشوت کے الزامات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ملازمتوں میں بھاری رشوت کے بغیر تقرری مشکل ہے۔
رام دیو نے ذات اور مذہب کی بنیاد پر مبینہ امتیاز پر بھی تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو ان مسائل کا فوری حل تلاش کرنا چاہیے۔
احتجاج میں شدت کا خدشہ
رام دیو نے مودی حکومت سے مبینہ گھپلوں اور بدعنوانی کی روک تھام کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسائل حل نہ ہوئے تو احتجاج مزید بڑھ سکتا ہے۔
تاہم رام دیو نے تشدد اور انتشار کی حمایت سے انکار کیا۔ انہوں نے نوجوانوں سے قانون اور آئین کی حدود میں رہنے کی اپیل کی۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اپنے حقوق کے لیے آواز ضرور اٹھائیں۔ تاہم انہیں تشدد اور انارکی سے گریز کرنا چاہیے۔
ذات اور مذہبی کشیدگی پر تشویش
رام دیو نے بھارت میں بڑھتی ذات پات اور مذہبی کشیدگی پر بھی تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے مختلف ذاتوں اور مذہبی برادریوں کے درمیان نفرت ختم کرنے کی اپیل کی۔
رام دیو نے کہا کہ بھارتی معاشرے کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے برہمن، کشتریہ، ویشیہ، شودر، دلت اور آدیواسی برادریوں کا بھی ذکر کیا۔
2011 کی احتجاجی تحریک کا حوالہ
رام دیو نے اپنی 2011 کی احتجاجی تحریک کا حوالہ بھی دیا۔
اس وقت انہوں نے نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں بدعنوانی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
اب انہوں نے کہا ہے کہ اگر موجودہ مسائل حل نہ ہوئے تو انہیں دوبارہ سڑکوں پر آنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج آئینی اور پرامن طریقے سے ہونا چاہیے۔
